وزیراعظم کا سخت ایکشن، سیکرٹری صحت معطل‘ وجوہات اور ذمہ داروں کے تعین کیلئے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل ، کمیٹی نے تحقیقات کا آغاز کر دیا
انکوائری کمیٹی نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ‘افسروں اور عملے کے بیانات ریکارڈ کر لئے‘حادثے کے وقت ڈیوٹی پر موجود عملے کا بائیومیٹرک ریکارڈ چیک
اسلام آباد (آن لائن)اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی سے جاں بحق ہونے والے 14 بچوں کو سپرد خاک کر دیا گیا۔ بدھ کے روز پمز میں آتشزدگی کے المناک واقعہ میں چودہ معصوم بچے جل کر جاں بحق ہوے ۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ آگ گائنی وارڈ کی ایم سی ایچ وارڈ کے تیسرے فلور پر لگی، آگ لگنے کے وقت نرسری میں 15 بچے تھے، لیڈی ڈاکٹر صرف ایک بچے کو بچا سکی۔ہسپتال دستاویز کے مطابق جاں بحق بچوں کی شناخت سامنے آ گئی، آگ کی زد میں آ کر بہادر نامی شہری کے جڑواں بچے بھی دم توڑ گئے۔ریسکیو حکام کے مطابق فائر بریگیڈ کی 6 گاڑیوں نے آگ پر قابو پایا جس ک بعد کولنگ کا عمل جاری رہا ،خواتین سمیت 19 افراد کو ریسکیو کیا گیا۔پمز ہسپتال میں بچوں کے وارڈ کیلئے تعینات پورا ٹیکنیکل سٹاک کو معطل کر دیا گیا ہے۔ پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے المناک واقعے میں نومولود کی جاں بحق ہونے پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کا حکم دے دیا۔ وزیراعظم کی زیر صدارت واقعے سے متعلق ہنگامی اجلاس میں اہم انتظامی اقدام کرتے ہوئے سیکریٹری صحت اسلم غوری کو معطل کرکے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔وزیراعظم نے اجلاس کے دوران سیکریٹری صحت اسلم غوری کو معطل کرتے ہوئے اجلاس سے چلے جانے کی ہدایت کی۔واقعے کی وجوہات اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کو کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تحقیقات شفاف اور بلاامتیاز انداز میں مکمل کی جائیں اور غفلت یا کوتاہی کے مرتکب افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی نے اسپتال کے 30 سے زائد ملازمین کے بیانات ریکارڈ کرلیے ہیں، جبکہ حادثے کے وقت ڈیوٹی پر موجود عملے کی موجودگی اور اسپتال کے حفاظتی انتظامات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز اور جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کے بیانات بھی ریکارڈ کیے ہیں۔ کمیٹی نے ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں اور نرسز سے بھی واقعے سے متعلق انفرادی بیانات لیے ہیں