ویب ڈیسک: چین نے حال ہی میں چاند سے لائے گئے قیمتی نمونوں کو بین الاقوامی سائنسی تعاون کو فروغ دینے کے لیے مختلف ممالک کے تحقیقی اداروں کو فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ نمونے چین کے 2020 کے چانگ ای-5 لونر مشن کے دوران جمع کیے گئے تھے، جس کے تحت 1,731 گرام چاند کی مٹی اور چٹانیں زمین پر لائی گئیں۔چین کی نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن (سی این ایس اے) نے ان نمونوں کو چھ ممالک کے سات تحقیقی اداروں کو فراہم کیا ہے۔ یہ ادارے درج ذیل ہیں:
پاکستان: پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفئر ریسرچ کمیشن (سپارکو)
امریکا: براؤن یونیورسٹی اور سنی اسٹونی بروک یونیورسٹی
برطانیہ: دی اوپن یونیورسٹی
فرانس: انسٹی ٹیوٹ ڈی فزیک ڈو گلوب ڈی پیرس
جرمنی: یونیورسٹی آف کولون
جاپان: یونیورسٹی آف اوساکا
یہ اعلان 2025 میں چین کے 10ویں اسپیس ڈے کے موقع پر شنگھائی میں کیا گیا۔ چانگ ای-5 مشن کے ذریعے حاصل کردہ چاند کے نمونے تقریباً 1.96 ارب سال پرانے ہیں، جو چاند کی ارضیاتی تاریخ اور اس کی ساخت کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان نمونوں کی بنیاد پر مختلف تحقیقی ادارے چاند کی زمین سے جڑت اور اس کی تشکیل کے بارے میں نئی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔چین کا یہ اقدام عالمی سطح پر سائنسی تحقیق میں تعاون بڑھانے کی ایک اہم کوشش ہے، اور یہ دوسرے ممالک کے ساتھ مشترکہ تحقیقی منصوبوں کی راہ بھی ہموار کر سکتا ہے۔