یورپ کی سب سے بڑی جوہری تنصیب، جپوریزیا نیوکلیئر پلانٹ، تین دن سے بیرونی بجلی کی فراہمی سے محروم ہے، جس سے پلانٹ کی سکیورٹی اور آپریشن خطرے میں پڑ گیا ہے۔
نیوکلیئر پلانٹ کو مستقل ٹھنڈا رکھنا ضروری ہے تاکہ وہاں موجود ایندھن زیادہ گرم ہو کر پگھل نہ جائے، اور اس عمل کے لیے مسلسل بجلی کی ضرورت ہوتی ہے۔بجلی نہ ملنے کی صورت میں بیک اپ ڈیزل جنریٹرز کام کر رہے ہیں، لیکن اگر ڈیزل ختم ہو جائے یا بجلی بحال نہ ہو، تو ہفتوں کے اندر ریکٹر خطرناک حد تک گرم ہو سکتا ہے۔خبر رساں اداروں کے مطابق پلانٹ کی آخری ہائی وولٹیج لائن روس کی جانب سے خراب ہوئی، جبکہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے اس کی مرمت مشکل ہو رہی ہے۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ رافیل گراسی نے صورتحال کو "فکر انگیز" قرار دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روس پلانٹ کو اپنے گرڈ سے دوبارہ جوڑنے کی تیاری کر رہا ہے، ممکنہ طور پر ایک ریکٹر دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ پلانٹ کی آپریشنل کنٹرول صرف روس کے ہاتھ میں ہے۔واضح رہے کہ 2011 میں جاپان کے فوکوشیما نیوکلیئر پلانٹ حادثے کے بعد یہ خطرہ بڑھ جانے کی وجہ سے عالمی ماہرین اور ریگولیٹرز خاص طور پر اس پلانٹ کی صورتحال پر نگرانی رکھے ہوئے ہیں۔