فیصلے پھاڑ کر نہیں پھینک سکتے ، عدالت کو بتائیں، لاپتہ شہری زندہ ہے یا نہیں جسٹس محسن اختر کیانی

ریاستی ادارے مختلف پوزیشن پرہیں، عدالت حقائق جاننا چاہتی ہے، افسر کمیشن میں تو پیش ہوتے ہیں، عدالت میں کیوں نہیں؟
 لاپتہ شہری کی بازیابی پر 6 اکتوبر کو ان کیمرہ بریفنگ طلب‘جس کو مرضی  بھیج دیں، صرف آکر سمجھا دیں  مسنگ پرسن کہاں ہے:ریمارکس
اسلام آباد( آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نے لاپتہ شہری کی بازیابی سے متعلق6اکتوبرکو ان کیمرہ بریفنگ طلب کرلی،جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ 10 سا ل پہلے دہشتگردی کا منظر کچھ اور تھاآج کچھ اور ہے،کسی نے تو عدالت کو سمجھانا ہے کہ ہو کیا رہا ہے،آج تک کوئی عدالت کو نہیں سمجھا سکا،کسی سٹیج پر یہ کرمنل کارروائی کی جانب معاملات جائیں گے،یہ تو پارلیمنٹ کا کام ہے جنہوں نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں،اب آپ نے بتانا ہے کہ کس نے آکر بریفنگ دینی ہے،کون سا افسر پیش ہوگا۔ ریاست کے ادارے مختلف پوزیشن پر کھڑے ہیں،ہم ججمنٹس پھاڑ کر پھینک نہیں سکتے، آپ بتائیں گے کہاں ہے مسنگ پرسن،کیا وہ افغانستان کی جیل میں ہے، یہ بتانا ہے وہ زندہ ہے یا مرگیا ہے،جس کو مرضی  آپ  بھیج دیں، صرف آکر سمجھا دیں کہ مسنگ پرسن کہاں ہے،ریکارڈ کیسا تھ آ جائیں ، جیسے مرضی آپ آ جا ئیں، کسی کا آرڈر میں نام نہیں لکھ رہا، ہم نے یہ معاملہ ویسے لارجر بنچ میں رکھا تھا لیکن پتہ نہیں کیوں جج صاحب معذرت کرگئے