محمدرضااُویسی
ایوان عدل لاہور کی عمارت ایل ڈی اے پلازہ میں آتشزدگی میںجلتے عدالتی ریکارڈ کا منظرنامہ محض حادثہ نہیں بلکہ عدالتی نظام کی ایسی کمزوری کی کھلی ترجمانی ہے جس کے اثرات براہِ راست شہریوں کے حقوق، معاشی استحکام اور آئینی انصاف پر پڑتے ہیں، سول کورٹس لاہور، ایل ڈی اے پلازہ میں لگی آگ نے 66 عدالتوں کا ریکارڈ خاک و خاشاک بنا دیا ، وہی ریکارڈ جسے کئی دہائیوں کی قانونی جدوجہد، قرضوں کی ادائیگی، زمینوں کی ملکیت، شناخت اور معاشی بقا کی گواہی سمجھا جاتا ہے۔ اس سانحہ کی سنگینی صرف دستاویزات کے ضیاع تک محدود نہیں،یہ دراصل لوگوں کی زندگیوں، ان کے اثاثوں اور آئندہ نسلوں کے خوابوں کے ضیاع کا مسئلہ ہے۔پہلی سطح پر عدالتی ریکارڈ کی حفاظتی ترجیحات کیا تھیں؟ عدالتوں کے ریکارڈ رومز میں آگ لگنے کے بعد معمول کی بریفنگ اور فائر بریگیڈ کی فوری کارکردگی قابلِ ستائش ہو سکتی ہے، مگر اصل مسئلہ پیشگی خطرات کی نشاندہی اور ان کے تدارک کا فقدان ہے۔ آیا ریکارڈ رومز میں مناسب فائر فائٹنگ آلات، اسپرنکلرز، آگ سے بچاؤ کے خودکار نظام، علاماتِ خطرہ اور دھواں معلوم کرنے والے آلات نصب تھے؟ کیا وہاں رکھی فائلوں کی کیٹیلاگنگ اور بیک اپ کا کوئی معیاری طریقہ کار موجود تھا؟ ان بنیادی سوالات کے جواب ہی بتائیں گے کہ آیا یہ محض حادثہ تھا یا انتظامی غفلت۔دوسری سطح پر قانونی اور ثبوتی جہت ہے: عدالتوں کے ریکارڈ میں محفوظ دستاویزات مقدمات کا اصل ثبوت تصور کیے جاتے ہیں۔ جب یہ شواہد راکھ بن جائیں تو مقدمات کی شروعاتی حیثیت، ثبوت کی زنجیر (chain of custody) اور دستاویزی شواہد کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ اس کا متوقع نتیجہ عدالتی تاخیر، دوبارہ ثبوت جمع کرنے کی پیچیدگیاں، اور بعض معاملات میں مکمل انصاف کی عدم دستیابی ہو سکتا ہے۔ مظلوم فریق، چھوٹے کسان، کمزور زمیندار یا متوسط طبقے کے تاجر جن کے اصل کاغذات اس آگ میں جل کرراکھ ہوگئے، وہ سب بلاواسطہ طور پر بدترین صورت حال کا شکار ہوں گے۔ لہٰذا متاثرین کے حقوق کی فوری و مستقل بحالی کے لیے انتظامیہ کو ماہر عدالتی نوٹس، فوری ری کنسٹرکشن یونٹ اور مفت قانونی معاونت فراہم کرنی چاہیے۔تیسری سطح، شفاف تحقیق اور جوابدہی کا ہے۔ گذشتہ واقعات کو دیکھ کر جب اسی نوعیت کی آگ دوبارہ جنم لیتی ہے تو عوامی شکوک و شبہات جائز ہیں۔ محض داخلی رپورٹیں یا مقدمہ بازی کی آہستہ دار کارروائیاں اعتماد بحال نہیں کر سکتیں۔ ایک آزاد، فنی اور وقت بندی کے ساتھ ہونے والی فائر فورنزک انکوائری ہونی چاہیے جس میں الیکٹریکل فالٹ، ارادی طور پر لگائی گئی آگ، یا عمارت کے انفراسٹرکچر کی نااہلی سب کا جامع تعین کیا جائے۔ جہاں بھی غفلت یا بدانتظامی ثابت ہو، متعلقہ بھرتی شدہ اور سینیئر افسران کے خلاف سخت انتظامی اور قانونی کارروائی لازم ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات میں احتیاطی اصول اپنانے کا درس ملے۔چوتھی سطح، تعمیر اعتماد اور اصلاحی اقدامات ہیں۔ سب سے پہلے عدالتی ریکارڈ کا ڈیجیٹائزیشن ناگزیر ہے۔ ایک مربوط ڈیجیٹل ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم اور آف سائٹ بیک اپ (کلاؤڈ/فزیکل) ریکارڈز کے ذریعے کاغذی فائلوں کی نقل محفوظ کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی، ریکارڈ کی معیاری کیٹیلاگنگ، اسکیننگ کے معیار، اور محفوظ ڈیٹا بیس میں رسائی کے موثر پروٹوکول طے کیے جائیں۔ چنانچہ اگر دوبارہ کوئی آتشزدگی ہو تو کم از کم ڈیجیٹل ثبوت برقرار رہے اور انصاف کی فراہمی بغیرتاخیرجاری رہ سکے۔پانچواں، متاثرین کے تحفظ اور معاوضے کی حکمتِ عملی فوری ہونی چاہیے۔ ایک عارضی سیل قائم کیا جائے جو جلنے والے ریکارڈ کی تفصیلی لسٹنگ کرے، متاثرہ افراد کو قانونی معاونت فراہم کرے، اور متبادل شناختی و ملکی حقوق کے حصول میں مددگار ہو۔ حکومت کو کم از کم وقتی معاوضے، دستاویزات کی دوبارہ جاریگی کے انتظام اور فوری انصاف تک رسائی کے طریقہ کار متعین کرنے چاہیئں۔ اس کے علاوہ ایک طویل المدت منصوبہ کے طور پر عدالتی انفراسٹرکچر کو بیمہ کرنے، ریکارڈز کے لیے فائر پروف اسٹوریج قائم کرنے اور ضلعی سطح پر فائل پروٹیکشن پالیسی لازمی بنانی چاہیے۔ یہ سانحہ ہمیں ایک وسیع تر شعوری تربیت کی ضرورت کی نشاندہی کرتا ہے۔ عدالتی عملے، انتظامیہ اور متعلقہ حکام کو باقاعدہ ٹریننگ دی جائے کہ ریکارڈ مینجمنٹ، آتشزدگی روک تھام، ایمرجنسی ریسپانس اور عوامی شفافیت کے معیار کیسے قائم کیے جائیں۔ ریاست کا بنیادی فرض یہ ہے کہ شہریوں کے قانونی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے ۔ جب وہی ریاست اپنے دفاتر میں رکھے ثبوتوں کی حفاظت میں ناکام ہو جائے تو انصاف کے ادارے بھی سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔یہ معاملہ چھوٹی سی لاپرواہی نہیںبلکہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے، اعتماد کا مسئلہ اور عدل کے تناظر میں بقا کا معاملہ ہے۔ انتظامیہ آج سنجیدہ اصلاحات نہیں لاتی تو کل وہی لوگ دوبارہ اپنی عدالتوں کے دروازوں پر منتظر ملیں گے، عدالتیں ان کے شواہد کی حفاظت کرنے سے قاصر رہیں گی۔ اس قدر حساس معاملے میں تاخیر، غیر شفافیت اور بے حسی قوم کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے ۔ اس لیے فوری اور مضبوط قدم اٹھائے جائیں۔