سابقہ فیصلے کالعدم ، اعترافی بیان تشدد کے ذریعے حاصل کیا گیا، قابلِ اعتماد نہیں تھا
گٹر اور نالیوں سے 19 خواتین اور بچوں کی ہڈیاں، کھوپڑیاں اور کپڑے ملے تھے
نئی د ہلی(آئی این پی ) بھارتی سپریم کورٹ نے 19 خواتین اور بچوں کو بیدردی سے قتل کے مقدمے کے آخری ملزم سرندر کولی کو بھی بری کر دیا ۔ بھارتی میڈیارپورٹس کے مطابق عدالتِ عظمی نے ان کے خلاف زیرِ التوا آخری مقدمے میں سابقہ فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا اعترافی بیان جس میں انسانیت سوز جرائم کا ذکر تھا، تشدد کے ذریعے حاصل کیا گیا اور قابلِ اعتماد نہیں تھا۔ یہ کیس دسمبر 2006 میں اس وقت منظرِ عام پر آیا جب نوئیڈا کے علاقے نٹھاری میں واقع بنگلے کے قریب گٹر اور نالیوں سے 19 خواتین اور بچوں کی ہڈیاں، کھوپڑیاں اور کپڑے ملے۔ بنگلے کے مالک تاجر موندر سنگھ پنڈہر اور ان کے خادم سرندر کولی کو اسی وقت گرفتار کر لیا گیا تھا، ابتدائی تحقیقات اور منظرِ عام پر آنے والے شواہد نے ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی۔ سالوں تک دونوں ملزمان کو مختلف مقدمات میں سزائے موت سنائی جاتی رہی، تاہم تحقیقاتی عمل میں سنگین خامیوں کے باعث 2023 میں پنڈہر اور اب 2025 میں کولی کو بھی بری کر دیا گیا