پی ایچ ڈی سکالر شپس: ڈیفالٹرز کی تفصیلات طلب

پبلک اکائونٹس کمیٹی نے فل برائٹ سکالرشپس ملنے کے باوجودکینسل کرانے کی وجوہات بھی ایک ہفتے میں پیش کرنے کی ہدایت کردی
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) پارلیمان کی پبلک اکائونٹس کمیٹی نے بیرون ممالک پی ایچ ڈی سکالر شپس پر جانے والے ڈیفالٹرز کی تفصیلات طلب کر لی ،کمیٹی نے فل برائٹ سکالرشپس ملنے کے باوجود کینسل کرانے کی وجوہات بھی ایک ہفتے میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔بدھ کو پی اے سی کا اجلاس چیئرمین جنید اکبر خان کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔اجلاس میں کمیٹی اراکین کے علاوہ چیئرمین ایچ ای سی سمیت آڈیٹر جنرل پاکستان اور مختلف یونی ورسٹیوں کے وائس چانسلرز نے شرکت کی ۔اجلاس میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے مالی سال 2023-24 کے آڈٹ پیراز پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے استفسار کیا کہ چیئرمین ایچ ای سی کہاں ہیں، میرے پاس بہت شکایات ہیں کہ یونی ورسٹیز کے پروفیسر طالبات کو بلیک میل کرتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ یونی ورسٹیز نے پروفیسرز کو امتحانی پرچہ، پیپر چیکنگ اور نمبر لگانے کے مکمل اختیارات دے دیئے ہیں جس پر ڈائریکٹر ایچ ای سی نے کہاکہ وائس چانسلر کانفرنس میں امتحانات کا سلسلہ بہتر بنانے پر غور ہو رہا ہے جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ اگر چیئرمین ایچ ای سی ہوتے تو ہمیں جواب دیتے۔ اجلاس میں یونی ورسٹی آف گلگت بلستان کیلئے پی سی ون سے پہلے فزیبلٹی سٹڈی نہ ہونے کا انکشاف کرتے ہوئے آڈٹ حکام نے بتایا کہ پی سی ون کی فزیبلٹی سٹڈی کے بغیر منظوری سے 4 ارب 20 کروڑ کا نقصان ہوا اور یونی ورسٹی انتظامیہ نے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 3 عمارتیں کرائے پر لیں ، کرائے اور تنخواہیں پی ایس ڈی پی فنڈ سے ادا کی جاتی رہیں جس پر رکن کمیٹی حنا ربانی کھر نے کہاکہ اگر دس لوگوں کے ساتھ بھی بزنس چلائیں گے تو تنخواہیں تو دینی ہوتی ہیں اگر تین تین ماہ تنخواہیں نہ مل رہی ہوں تو یونی ورسٹی انتظامیہ کیا کرے گی ۔ ایچ ای سی نے مختلف یونی ورسٹیز کے طلباء کو سکالر شپس فراہم کئے مگر ان میں 96افراد واپس نہیں آئے ہیں جس پر حکام نے بتایا کہ اس میں 50فیصد کی ریکوری ہوچکی ہے اور مزید وصولیوں کی کوشش کر رہے ہیں ۔چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ جنہوں نے ادائیگی نہیں کی ہے ان کے خلاف ایف آئی آرز کرائیں۔ رکن کمیٹی سینیٹر افنان اللہ نے کہاکہ جو ڈیفالٹرز ہیں ان کے نام اخبارات میں شائع کیے جائیں ۔کمیٹی نے اس حوالے سے کئے جانے والے تمام اقدامات کی تفصیلات اور سفارشات دو ہفتوں میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔