بھارت نے روس سے دفاعی تعاون بڑھانے کیلئے دوبارہ رابطہ کرلیا

بھارت نے روس سے دفاعی تعاون بڑھانے کیلئے دوبارہ رابطہ کرلیا

بھارت نے اپنی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک بار پھر روس سے رجوع کر لیا ہے۔ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے چین میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے وزرائے دفاع کے اجلاس کی سائیڈ لائنز پر روسی ہم منصب سے ملاقات کی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں ایس یو-30 ایم کے آئی جنگی طیاروں کی اپ گریڈیشن، ایس-400 ایئر ڈیفنس سسٹم کی فراہمی اور دیگر دفاعی آلات کے حصول پر تبادلہ خیال کیا گیا۔بھارتی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات بھارت-روس دفاعی تعلقات کو مزید وسعت دینے کی کوششوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد موجودہ دفاعی معاہدوں پر عملدرآمد اور نئی پیش رفت کو یقینی بنانا ہے۔

اجلاس کے تناظر میں کشیدگی
اس ملاقات سے ایک روز قبل بھارت نے SCO وزرائے دفاع اجلاس کے مشترکہ اعلامیے پر دستخط سے انکار کر دیا تھا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق راج ناتھ سنگھ اجلاس کے دوران اس بات پر برہم نظر آئے کہ پہلگام دہشت گرد حملے کا ذکر اعلامیے میں شامل نہیں کیا گیا، جسے بھارت نے "قابل اعتراض" قرار دیا۔یاد رہے کہ بھارت اور روس کے درمیان دفاعی شراکت داری کئی دہائیوں پر محیط ہے، اور بھارت کی بڑی عسکری ضروریات، خصوصاً فضائی اور زمینی دفاعی نظام، اب بھی بڑی حد تک روسی ساز و سامان پر انحصار کرتی ہیں۔

پس منظر
ایس یو-30 ایم کے آئی بھارت کا اہم لڑاکا طیارہ ہے جسے روس کے اشتراک سے HAL (ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ) نے بھارت میں تیار کیا ہے۔ اس کی اپ گریڈیشن اور ایس-400 کی فراہمی پر بھی امریکا کی جانب سے بھارت پر دباؤ رہا ہے، تاہم بھارت نے اس دفاعی تعاون کو "قومی سلامتی کا معاملہ" قرار دے کر اسے برقرار رکھا ہے۔بھارتی وزیر دفاع کی روسی ہم منصب سے یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دنیا بھر میں دفاعی تعلقات نئے جغرافیائی خدشات کے تحت تشکیل پا رہے ہیں، اور بھارت اس میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔