سمیع اللہ ملک (آخری قسط)
مگرسوال یہ ہے کہ کیاغیرجانبداریکی یہ تلواردونوں دھاروں کوکاٹنے کی طاقت رکھتی ہے؟کیانیتن یاہوکاوہ زہرآلودبیان جس میں وہ ایران کے بعدپاکستان کے ایٹمی پروگرام کوختم کرنے کاارادہ رکھتے ہیں،اس بیان کے بعدکیااسرائیل کسی بھی ایسی کوشش پربرملاپہلے معافی مانگ کربیان واپس لے سکتاہے،اس کاجواب آنے والے ایام دیں گے۔
ان تمام واقعات میں اگرکوئی خاموش کردارہے،تو وہ روس ہے،جوپسِ پردہ بیٹھ کرشطرنج کی چالوں کاجائزہ لے رہاہے۔ماسکو کی جانب سے امریکاکودیاگیایہ انتباہ ایران اور اسرائیل کے تنازع میں مداخلت سے بازرہے،ورنہ پوراخطہ عدم استحکام کا شکارہوجائے گا۔روس کی موجودگی اس بات کااظہارہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ،اگربھڑکی،تویوکرین یا
شام کی طرح محدود نہیں رہے گیبلکہ پوری دنیاکی طاقتیں اس میں کھینچی چلی آئیں گی۔گویااس عظیم جنگ کی طرف اشارہ ہے جو’’پراکسی‘‘سے نکل کر’’براہِ راست‘‘میں ڈھل سکتی ہے۔
چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیان نے واضح طورپرکہاہے کہ چینایران کے خلاف اسرائیل کے حملوں سے’’گہری تشویش‘‘کااظہارکرتاہے اورکسی بھی صورت میں مزید کشیدگی کوجاری نہیں دیکھناچاہتا۔بیجنگ نے کہاہے کہ تنازع کاحل صرف سیاسی وسفارتی راستوں سے ہوناچاہیے،اورکسی فوجی مداخلت پرسخت تحفظات ہیں۔چین نے اپنی ایران کے ساتھ تیل اور انفراسٹرکچرمیں معاہدوں کوسامنے رکھتے ہوئے اقوام متحدہ میں ثالثی کے کردارکاعزم ظاہرکیاجیساکہ گزشتہ صلح نامہ(ایران-سعودی)کے بعدبیلٹ اینڈروڈکی کامیابی کاجزہے۔چین بیلٹ اینڈروڈکے مفادات کے تحفظ کیلئے ہرممکن کوشش کرے گا۔
چین نے پہلی بارجنگ بندی کیلئے جامع اورمتوازن چارشرائط پیش کیں،جس سے اس کاسفارتی اثرخاصابڑھاہے۔
٭صدرشی جن پنگ نے اسرائیل پرزوردیاہے کہ وہ"جلدازجلد"فوری اورغیرمشروط جنگ بندی کویقینی بنائے تاکہ اس خوفناک کشیدگی میں مزیداضافہ نہ ہو۔
٭چین اورروس دونوں اس نکتے پرزوردے رہے ہیں کہ ایران کے جوہری پروگرام جیسے مسائل کاحل فوجی نہیں بلکہ صرف سفارتی ڈائیلاگ اورسیاسی مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔
٭صدرشی نے اس امرپربھی زوردیاکہ ایران اوراسرائیل دونوں اپنی سرزمین پرمقیم غیرملکی شہریوں کوبلارکاوٹ نکالنے کے انتظامات کریں ۔
٭صدرشی نے کہاکہ وہ اہم عالمی طاقتوں کی مثبت ثالثی،بالخصوص امریکاکوفعال کرداراداکرنے کیلئیکہہ رہے ہیں تاکہ کشیدگی کم ہواورامن کی راہ ہموارہو۔
چین اورروس نے مل کراسرائیل کے حملوں کو"یواین چارٹرکی خلاف ورزی"قراردیتے ہوئے کہاکہ خطے میں فوجی مداخلت کے شدید نقصانات ہوسکتے ہیں۔عالمی فوجی اقدامات کی صورت میں خطے میں جاری جنگ کے شعلے دنیاکواپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔عالمی میڈیاجاری اسرائیل ایران جنگ میں چین کے کردارکورپورٹ کرتے ہوئے تسلیم کیاہے کہ بیجنگ نے خودکو "امن کے سفارتی ضامن"کی حیثیت سے پیش کیاہے۔خودامریکی نیوزویک نے اعتراف کیاہے کہ چین نے امریکی توجہ کافائدہ اٹھاتے ہوئے سفارتی پل بڑھانے کی حکمت اپنائی ہے۔اسی طرح الجزیرہ نے بھی رپورٹ کیاہے کہ چین اورروس نے مشترکہ طورپراس بات پرزوردیاکہ مسئلہ فوجی نہیں،سیاسی اور سفارتی حل طلب ہے۔ اسی طرح ٹائم اوررائٹرزنے متنبہ کرتے ہوئے رپورٹ کیاکہ چین نے امریکی حملے کے حوالے سے خبردارکیاکہ ایسی مداخلت’’عالمی عدم استحکام‘‘کاخطرہ ہے ۔
سوال یہ ہے کہ کیاروس اورچین کی پوزیشن امریکی حملے کومؤخرکرواسکتی ہے؟چین اورروس کی مشترکہ مزاحمت امریکی فوجی آپشن پرایک مضبوط توازن پیداکرتی ہے۔خدشہ ہے کہ ٹرمپ اگلے دوہفتوں میں حملے کافیصلہ کرسکتے ہیں،مگرعالمی طاقتوں کے دباؤنے ٹرمپ کومحتاط کردیاہے۔اقوام متحدہ سمیت متعددممالک نے بھی زوردیاہے کہ طاقت سے مسئلہ حل نہیں، سیاسی راستے اپنانے چاہئیں۔اس پس منظرمیں امریکی مددکے بغیراسرائیل کامکمل حملہ خطرناک حدتک خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
اس مرحلے پرسیاسی و چین روس مشترکہ مؤقف اورمغربی ممالک کے دباؤنے ٹرمپ کے فوجی آپشن پرپابندی عائدکردی ہے۔سفارتی حل ہی زیادہ ممکن دکھائی دیتے ہیں،اورفوجی محاذپرکسی صورت میں بریک لگنے کے آثارنمایاں ہیں۔چین کامثراور متوازی مقام،روس کے ساتھ مضبوطی اورعالمی میڈیاکے مشترکہ مؤقف نے امریکی فوجی آپشن کودباؤمیں رکھا ہے۔یوں امریکا کوموجودہ تناؤمیں جنگ آگے بڑھانے کیلئے سخت سوچناپڑے گا۔چین،جوایران کاخاموش مگربااثراتحادی ہے،خاموشی سے مگر محتاط اندازمیں اس پورے منظر نامے کودیکھ رہاہے۔ایسے میں پاکستان کوہرقدم پھونک پھونک کررکھناہوگا۔
چین نے ایراناسرائیل تنازع میں گہری تشویش کااظہارکیاہے،فوجی مداخلت کی بجائے سفارت کاری کاراستہ اپنایا،اوراپنا بین الاقوامی ثالثی کرداراجاگرکیا۔عالمی میڈیانے چین -روس موقف کوایک نئے عالمی توازن کی نمائندگی کے طورپررپورٹ کیا،جو امریکی فوجی آپشن پرمخصوص حدودعائدکرتانظرآرہاہے۔امریکا،اگرچہ حملے کے امکانات طے کر رہا ہے ،مگرچین اورروس کے مشترکہ دبا ؤکی وجہ سے فی الحال اس پالیسی کومؤخرکرنے کاامکان زیادہ محسوس ہوتاہے۔
برطانوی وزیراعظم کئیرسٹارمرنے ٹرمپ کومشورہ دیاکہ ایران کے خلاف عسکری کارروائی سے اجتناب کیاجائے۔برطانوی وزیراعظم کایہ مشورہ ایک نیااشارہ دیتاہے کہ مغرب کے اندربھی ایران کومکمل دشمن قراردینے پراتفاقِ رائے نہیں۔اس طرح یورپی طاقتیں بھی چاہتی ہیں کہ خلیج فارس ایک نئی جنگ کی آگ کاشکارنہ ہو۔یہ مشورے دراصل خفیہ سفارتکاری کی وہ جھلکیاں ہیں جوبظاہرامن کاپیغام لیے ہوتی ہیں،مگرباطن میں طاقت کے توازن کواپنے مفادمیں موڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔
اس پوری کہانی میں بھارت بھی ایک سرگوشی کی مانندموجودہے۔حیفہ،جوکبھی نوآبادیاتی ہندوستان کی بندرگاہوں سے جڑارہا، اب اسرائیلی اہمیت کامرکزہے اورایرانی میزائلوں کا ہدف۔یہ محض اتفاق نہیں کہ تہران کی نگاہ تل ابیب سے گزرتی ہوئی دہلی کے ماضی کی گلیوں سے بھی واقف ہے۔بھارت اوراسرائیل کے بڑھتے ہوئے تعلقات،اورحیفہ کی تاریخ ،اس تناظرمیں ایران کا اس مقام پرحملہ محض جنگی حکمت عملی نہیں بلکہ علامتی انتقام کی صورت اختیارکرتاجارہاہے۔یہ حملے صرف جغرافیہ کو نہیں،بلکہ تاریخ کوبھی نشانہ بنارہے ہیں۔
حیفہ،اسرائیل کی وہ بندرگاہ ہے جس پرایرانی حملوں کی خبریں عالمی میڈیاپرچھائی رہیں۔مگربہت کم لوگ جانتے ہیں کہ حیفہ کبھی ہندوستانی فوجیوں کی آماجگاہ بھی رہا۔پہلی جنگِ عظیم میں برطانوی افواج کے ساتھ شامل ہندوستانی سپاہی اسی شہر کی مٹی میں دفن ہوئے ہیں۔یہودوہنودکاخطرناک ایجنڈے پرمبنی اتحاداب کسی سے پوشیدہ نہیں۔ایک طرف گریٹر اسرائیل کانقشہ اس بات کی گواہی دے رہاہے کہ وہ کس طرح تمام عالم عرب کواس کاحصہ سمجھتے ہوئے مسلمانوں کے مقدس شہرمدینہ کوبھی اس کاحصہ بنانے پرعمل پیراہے وہاں شدت پسندہندوآرایس ایس کااکھنڈبھارت کامنصوبہ یہ ہے کہ جس ملک کی سرحدیں بحرہندسے ملتی ہیں،وہ اکھنڈبھارت کاحصہ ہیں اورمودی اسی جماعت کی نمائندگی کررہاہے۔
بھارتی گودی میڈیااورسوشل میڈیاپرمودی مخالف رجحانات میں تیزی آئی ہے۔انڈیاٹائمزپرشائع نیوزکے مطابق،ٹرمپ نے بھارتی پاکستان جنگ کامذاق یہ کہتے ہوئے روکاکہ دونوں کوعالمی تباہی سے بچالیاہے۔اس بیان کے ردِعمل میں بھارت کی پرائمری میڈیامیں بھی عوامی سطح پرشدیدتنقیداورطنزیہ بیانات سامنے آرہے ہیں جن میں سرنڈرمودی جیسے نعروں کابھی آغازہوگیاہے۔سیاسی تجزیہ نگاریہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ رجحان مستقبل میں کسی بڑی تحریک کی بنیادبن سکتاہے،اگرمخالفین اسے منظم کریں یاکوئی کرائسس سراٹھائے تو مودی کوگھربھیجنے میں آسانی ہوجائے گی۔
ان حالات میں یہ ملاقات محض دوافرادکی گفت وشنیدنہیں،بلکہ تہذیبوں کے تصادم،اسلامی دنیاکے اتحاد،اورعالمی طاقتوں کے نئی صف بندیوں کاپیش خیمہ ہے۔ پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک ایسے موڑپرکھڑاہے جہاں ہراک قدم ہے دلیلِ شعورودانش کا، ذراسالغزشِ پابھی فناکاپیغام دے سکتی ہے۔ایسے میں ضرورت ہے کہ پاکستان، اپنے نظریاتی اساس،سفارتی دانش،اورعلاقائی ہم آہنگی کے تقاضوں کوسامنے رکھتے ہوئے،ایک ایساکرداراداکرے جونہ صرف جنگ سے روکے،بلکہ اسلامی دنیاکی فکری اور عملی قیادت کانیا باب بنے۔
پاکستان اس وقت نہ صرف ایک جغرافیائی مقام پرکھڑاہے بلکہ تاریخ کے دھارے پرنکتہ اتصال بن چکاہے۔اس کی خاموشی دراصل ایک صداہے دانش کی،خودداری کی،اورحکمتِ عملی کی۔کیاپاکستان اس تپتی ریت پراپناقدم رکھے گا؟یاپھرحکمت، صبر،اورغیرجانبداری سے ایک نئے باب کاآغازکرے گا؟یہ فیصلہ صرف عسکری قیادت کانہیں،بلکہ پوری قوم کی دانش وبینش کاامتحان ہے۔ایک پیغام تہذیبوں کو،طاقتوں کو،اورتاریخ کو،کہ پاکستان اب صرف تماشائی نہیں،ایک فکری کردارہے۔
یادرکھو!یہ صرف ملاقات نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔یہ ایک اہم پیغام تھا!