تہذیبوں کا تصادم اور پاکستان کی آزمائش

سمیع اللہ ملک (پہلی قسط)
تاریخ کے اوراق میں کبھی کبھی ایسے لمحے نمودارہوتے ہیں جوسطحی نگاہوں سے محض ملاقاتیں دکھائی دیتے ہیں،مگر بصیرت کی نگاہ میں وہ تاریخ کے دھارے بدلنے والے لمحے بن جاتے ہیں۔دنیاایک نئے عبوری دورسے گزررہی ہے۔روس و یوکرین کی جنگ کے شعلے ابھی ختم نہیں ہوئے کہ  مشرقِ وسطی کابگڑتامنظرنامہ،ایک نیاسوالیہ نشان لیے سامنے آ گیا ہے۔ تہذیبوں کے تصادم کاپراناتصوراب محض تھیوری نہیں بلکہ حقیقت بن چکاہے۔ایران اوراسرائیل کے مابین بڑھتی کشیدگی نے ایک ایسادھواں اٹھادیاہے جس کی لپٹیں خلیج فارس سے ہوتی ہوئی،واشنگٹن،تل ابیب،تہران،بیجنگ،ماسکواورنئی دہلی تک پہنچ چکی ہیں۔ایران کاحیفہ اورتل ابیب پرحملہ،اس بات کی علامت ہے کہ مشرقِ وسطی کے جنگی افق پر اب صرف عسکری حملے نہیں بلکہ علامتی تہذیبی واربھی شامل ہوچکے ہیں۔
بین الاقوامی تناظرمیں تہذیبی تصادم اورصف بندی کی نئی بساط بچھاکردنیاکانقشہ تبدیل کرنے کی سازشیں شروع ہوچکی ہیں۔ کلیدی عالمی مظاہرمیں امریکااسرائیل کابے مثال حلیف کاکرداراداکرتے ہوئے تمام عالمی قوانین اوراخلاقیات کوپاؤں تلے مسل رہا ہے جبکہ ایران اپنے دفاعی نظریے کواسلامی مزاحمت کالباس پہناچکاہے۔روس،امریکاکی عسکری مداخلت کامخالف اور چین خاموشی سے اپنی موجودگی مستحکم کررہاہے۔یورپی ممالک چاہنے کے باوجوداس بحران میں کھل کرکرداراداکرنے سے قاصرہیں۔
عرب ریاستیں تذبذب میں ہیں۔سعودی عرب مصالحت پرمائل،امارات محتاط اورقطردودھاری پالیسی پرکھڑاایک بڑی آزمائش میں مبتلاہے کہ اس نے اربوں ڈالراپنی گرہ سے لگاکرہزاروں میل دوربسنے والے قصرسفید کے مکین کواپنی سریع الحرکت افواج کو علاقہ کاسب سے بڑابحری اڈہ بناکرپیش کردیااوراب اگراس اڈے کونشانہ بنایاجاتاہے توقطرکی برسوں کی محنت کے بعدجاری خوشحالی خاکسترہوسکتی ہے۔اس سارے تناظرمیں اگرکسی ملک کی ایک"خاموش موجودگی" عالمی حلقوں میں توجہ حاصل کر رہی ہے تووہ پاکستان ہے۔
دنیاکے افق پرجب افلاک سیاست کے ستارے گردش میں آتے ہیں،اورتہذیبوں کے مابین کشیدگی کی بجلیاں کڑکنے لگتی ہیں،تب ایک خاموش ملاقات بھی گونج دارپیغام بن جاتی ہے۔واشنگٹن کی سنگین فضامیں جب جنرل عاصم منیر،پاکستان کی عسکری قیادت کاپیکرِوقار،وائٹ ہاس کی دہلیزپرقدم رکھتاہے،تویہ محض ایک رسمی مصافحہ نہیں ہوتابلکہ تہذیبوں کے مابین ایک خاموش مکالمہ آغازپاتاہے۔پاکستان کاکردارنہایت پیچیدہ اورحساس نوعیت کاہے۔بطورایک ایٹمی اسلامی ریاست،اس کی پوزیشن دنیابھرمیں منفردہے۔جنرل عاصم منیرکی امریکی صدرڈونلڈٹرمپ سے غیرمعمولی ملاقات اسی حساسیت کامظہرہے۔
یہ ملاقات محض ایران واسرائیل کے تناکے تناظرمیں نہیں دیکھی جاسکتی،کیونکہ درحقیقت یہ مکالمہ اس بڑے منظرنامے کا ایک جزہے جس میں طاقت کی بساط پرنئی چالیں چلی جارہی ہیں۔یہ اس وقت ہواجب مشرقِ وسطی میں آتش وآہن کے بادل چھائے ہوئے ہیں،حیفہ کی بندرگاہیں جل رہی ہیں،تل ابیب دھواں دھواں ہے،اورتہران کے ایوانوں میں صدائے احتجاج گونج رہی ہے۔
حالیہ دنوں واشنگٹن میں وائٹ ہاس کے درودیوارایک ایسی ہی ملاقات کے گواہ بنے جب جنرل عاصم منیراورامریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے مابین ایکغیرمعمولیاورشیڈول سے طویل ملاقات ہوئی۔اس ملاقات کومحض رسمی مصافحہ نہ سمجھاجائے، بلکہ اسے تہذیبی مکالمے،عسکری توازن،سفارتی چالاکی اورمستقبل کی عالمی سیاست کی تمہیدکے طورپردیکھاجاناچاہیے۔
اس ملاقات کی گونج صرف پاکستان اورامریکاکے تعلقات کی فضاتک محدودنہیں،بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی دھڑکتی ہوئی نبض، ایران اوراسرائیل کے درمیان سلگتاہواتنازع،اورمسلم دنیا کے مجموعی مقف سے مربوط ہے۔ٹرمپ اورجنرل منیرکی ملاقات میں مشرق وسطی کے حالاتِ حاضرہ،بالخصوص ایران واسرائیل کشیدگی،پرتفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ یہ ملاقات محض پروٹوکول کا حصہ نہیں رہی بلکہ اسے واشنگٹن میں اسٹریٹیجک کامیابی کے طورپردیکھاجارہاہے۔ٹرمپ نے جنرل منیرکا"شکریہ"اداکیاکہ انہوں نے بھارت کے ساتھ ممکنہ جنگ کوروکنے میں کرداراداکیا۔
امریکی تجزیہ نگاربارباراس ملاقات کو"شراکت داری میں نئی پیش رفت"قراردے رہے ہیں۔اس کے پیشِ نظرپاکستانی فوج نے خطے میں اپنی عسکری ساکھ برقراررکھی جبکہ سفارتی سطح پربھی امریکاکے ساتھ تعلقات مستحکم ہوئے،خاص کراس وقت جب پاکستان توازن برقراررکھتے ہوئے چین کے ساتھ بھی جدید دفاعی لین دین کررہاہے۔
صدرٹرمپ نے ملاقات کے بعدجوجملے اداکیے،وہ محض رسمی سفارتی جملے نہیں،بلکہ اس بات کاعندیہ تھے کہ ایران کے حوالے سے ان کی معلومات اورتعلقات گہرے ہیں:’’ وہ( جنرل عاصم منیر)ایران کوبہت اچھی طرح جانتے ہیں۔شایددوسروں سے بہتر‘‘۔یہ جملہ فقط ایک شخصیت کی معلومات کااظہارنہیں،بلکہ امریکاکی داخلی پالیسی اوراسرائیل کی پشت پرموجودامریکی ذہنیت کی سفارتی علامت کی بھی ایک جھلک ہے۔گویاایران کے ساتھ ان کی دانستہ خاموش وابستگی اب بے نقاب ہورہی ہے۔ ایسے بیانات سفارتی چالوں میں کئی بار’’مذاکرات کے دروازے‘‘کھلے رکھنے کاحربہ ہوتے ہیں۔
ٹرمپ کی زبان سے نکلنے والے الفاظ،بظاہرسیاسی لطافت میں لپٹے ہوئے،درحقیقت ایک غیرمعمولی فہم کی غمازی کرتے ہیں۔ وہ ایران کو’’شایددوسروں سے بہتر‘‘جانتے ہیں، ایک ایسااعتراف جوبسااوقات بادلوں کے پیچھے چھپے سورج کی ماننداپنی روشنی نہیں دکھاتامگرگرمی ضروردیتاہے۔ان کے یہ الفاظ کہ’’ہم اس صورتحال سے خوش نہیں‘‘،سفارتی ادب کاوہ قرینہ ہے جس میں بیزاری کی تلخی خوش گفتاری کی شکرمیں لپیٹ دی جاتی ہے۔پاکستان،جوازل سے ہی تلوارکی دھاراورپل صراط پرچلنے کاعادی رہاہے،ایک بارپھراس تاریخ کے موڑپرکھڑاہے جہاں اسے اپنی پالیسی کاکمال دکھاناہوگانہ بے نیازی کادعوی،نہ بے نیازی کی ہزیمت،بلکہ حکمت کی روشنی اورخودداری کی رہنمائی۔
یہ حقیقت فراموش نہیں کی جاسکتی کہ جنرل عاصم منیرنے اس ملاقات سے محض چندروزقبل ایران کاسرکاری دورہ کیاتھا، جہاں ایرانی عسکری قیادت سے اہم مذاکرات ہوئے۔اس پس منظرمیں ٹرمپ سے ان کی گفتگومحض رسمی نوعیت کی نہیں ہو سکتی۔پاکستان،جواسلامی دنیاکی واحدایٹمی طاقت ہے،ایران اورسعودی عرب کے مابین ثالثی کاکردارماضی میں بھی اداکرچکا ہے۔اگرچہ بظاہر اس وقت جنگی اتحادمیں اس کی شمولیت کاکوئی اشارہ نہیں،مگرپس پردہ مذاکرات اورقیادت کی صفوں میں مشورے جاری ہیں۔جنرل عاصم منیرکااس وقت متحرک ہونا،ایران کے ساتھ ان کے حالیہ روابط اسی خاموش توازن کی دلیل ہیں جوپاکستان مشرقِ وسطی میں قائم رکھناچاہتاہے۔
مارکوروبیو(وزیرخارجہ)اورسٹیووٹکوف(مشرقِ وسطی کے ایلچی)کی شرکت اس ملاقات کورسمی کی بجائے تزویراتی نشست میں بدل دیتی ہے۔گویااس امرکی دلیل ہے کہ گفتگوکا دائرہ محض خیرسگالی کے جملوں سے کہیں آگے بڑھ کرہے۔ پاکستانی وفد میں آئی ایس آئی کے سربراہ کی موجودگی اس بات کاعندیہ ہے کہ انٹیلی جنس شیئرنگ یامشترکہ معلومات پربھی تبادلہ خیال ہوا۔ ایران کاذکرواضح،اسرائیل کاذکرمبہم یہ اس ملاقات کی سفارتی ترتیب کی کلیدہے۔
وہ تمام چہرے،جن کے لب خاموش تھے،آنکھیں مگرسوال کرتی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیاپاکستان،ایک اسلامی ایٹمی طاقت،اس متوقع تصادم میں ثالث کاکرداراداکرے گا،یامحض تماشائی رہے گا؟جنرل عاصم منیرکاایران کاحالیہ دورہ، جسے بعض حلقے محض روایتی قرار دیتے ہیں،اس ملاقات کے پس منظرکومعنی کی نئی پرتیں عطاکرتاہے۔ایران کی فوجی قیادت سے ان کے تبادلہ خیال کے تناظر میں،وائٹ ہاس میں ان کی موجودگی محض ایک رسمی عمل نہیں،بلکہ بقولِ اقبال:
زمانہ آیاہے بے حجابی کا،عام دیدارِیارہوگا
سکوت تھاپردہ دارجس کا،وہ رازاب آشکارہوگا
ایران اوراسرائیل کے درمیان جنگ اپنی شدت سے جاری ہے اورایسے موقع پرجنرل عاصم منیرکاقصرسفیدمیں ایساوالہانہ استقبال اورٹرمپ کایہ کہہ کراستقبال کرناکہ میرے لئے جنرل عاصم منیرسے ملناایک اعزازہے،اس کے بعدان تمام دل جلوں کے ذہن میں امریکی بے وفائی کے گزشتہ تمام تاریخی مناظرایک فلم کی طرح چلناشروع ہوجاتے ہیں کہ بارہا پاکستان کووفاداری کے صلہ میں  دشمنوں کے ہاتھوں چرکے لگانے میں قصرسفید کے مکینوں کابڑاعمل دخل رہا۔اب ایک مرتبہ پھریہ خاطرداری دیکھ کردل گھبرارہاہے کہ کہیں پاکستان کواس ممکنہ جنگ کاحصہ تونہیں بناجارہا؟یہ سوال بظاہرسادہ لیکن باطن میں نہایت پیچیدہ ہے۔پاکستان کسی بھی طرح اسرائیل کے ساتھ عسکری اتحادکامتحمل نہیں ہوسکتا۔ اسلامی نظریاتی اساس،عوامی جذبات،اورپارلیمانی تاریخسب اس کے خلاف ہیں۔مگرامریکاجیسے طاقتوراتحادی کے ساتھ تعلقات کی نزاکت کونظراندازبھی نہیں کیاجاسکتا۔اس وقت پاکستان کی پالیسی تین نکات پراستوارہے۔
٭غیرجانبداری وہ پہلا نکتہ ہے کہ اس جنگ میں کسی فریق کی کھلی حمائت نہ کی جائے۔
٭دوسرانکتہ ثالثی کے کردارکاہے کہ ایران وسعودی عرب کی طرح ایران واسرائیل میں کشیدگی کوکم کرانے میں کرداراداکرنے کیلئے کہاجائے۔
٭اورتیسرااہم نکتہ داخلی توازن کاہے کہ ملک کے اندرکسی بھی قسم کے فرقہ وارانہ ردِعمل یانظریاتی تقسیم سے بچاؤکیلئے خاموشی اختیارکی جائے۔(جاری ہے)