بااثر افراد نے لاہور کو جنگل بنا دیا‘26شیر ‘14ہرن اور پرندے برآمد

رہائشی آبادیوں میں خطرناک اور ممنوعہ جنگلی جانور رکھنے والوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن‘ 8 افراد گرفتار ‘ 6 مقدمات درج 
لاہور پولیس محکمہ وائلڈ لائف کو بھرپور معاونت فراہم کر رہی ہے اور ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی:سی سی پی او
؎لاہور(علی چودھری)لاہور پولیس نے محکمہ وائلڈ لائف کے اشتراک سے رہائشی آبادیوں میں خطرناک اور ممنوعہ جنگلی جانور رکھنے والوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے رواں ماہ 8 افراد کو گرفتار کر لیا جبکہ 6 مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ترجمان لاہور پولیس کے مطابق کارروائیوں کے دوران ملزموں کی تحویل سے 26 شیر، 14 ہرن اور مختلف اقسام کے پرندے برآمد کیے گئے۔ برآمد کیے گئے جانوروں کو محکمہ وائلڈ لائف کی تحویل میں دے دیا گیا ہے تاکہ انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔سی سی پی او لاہور کا کہنا ہے کہ وائلڈ لائف قوانین کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے اور کسی کو بھی انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ رہائشی علاقوں میں خطرناک جنگلی جانور رکھنا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ شہریوں، خصوصاً بچوں کے لیے شدید خطرے کا باعث بنتا ہے۔بلال صدیق کمیانہ نے کہا  لاہور پولیس محکمہ وائلڈ لائف کو بھرپور معاونت فراہم کر رہی ہے اور ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ممنوعہ جانور رکھنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔حکام نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اردگرد ایسے کسی غیر قانونی عمل کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔