28ویں ترمیم میں یہ بات بھی شامل کر لیں، ویسے بھی ہمارے پاس بس 24گھنٹے رہ گئے، جسٹس محسن اختر کیانی

28ویں ترمیم میں یہ بات بھی شامل کر لیں، ویسے بھی ہمارے پاس بس 24گھنٹے رہ گئے، جسٹس محسن اختر کیانی

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیے کہ 28 ویں ترمیم میں یہ بات بھی شامل کر لیں تاکہ ان کا اختیار واضح ہو جائے۔

انہوں نے کہا کہ فیصلہ آج ہی سنا دیا جائے گا، کیونکہ ہمارے پاس صرف 24 گھنٹے باقی ہیں۔  عدالت نے اس سوال پر کہ نظریاتی کونسل کو کس حد تک رائے دینے کا اختیار ہے، فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔ دوران سماعت درخواست گزار ڈاکٹر اسلم خاکی نے استفسار کیا کہ کیا آج ہی فیصلہ سنایا جائے گا، جس پر جسٹس کیانی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ فیصلہ آج ہی ہو جائے گا۔  ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کوئی قانون بننے سے پہلے اسلامی نظریاتی کونسل اپنی رائے دے سکتی ہے تاکہ قانون قرآن و سنہ کے خلاف نہ ہو۔  
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ آپ بھی وہی بات کر رہے ہیں جو ڈاکٹر اسلم خاکی کہہ رہے ہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ انجینئر محمد علی مرزا کا معاملہ ٹرائل کورٹ کے سامنے ہے اور اس پر کوئی رائے فریقین کے حقوق متاثر کر سکتی ہے۔  عدالت نے سوال اٹھایا کہ ہمارے سامنے یہ بھی ہے کہ گورنرز، صدر، قومی اسمبلی، سینیٹ یا صوبائی اسمبلیز کی جانب سے رائے مانگنے کے علاوہ کیا کوئی رائے نظریاتی کونسل دے سکتی ہے؟  
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ہم صرف نظریاتی کونسل کے اختیارات کے حوالے سے دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ این سی سی آئی کو بھی نظریاتی کونسل رائے نہیں دے سکتی، بلکہ قانون کے مطابق رائے نظریاتی کونسل سے لینا ہوتی ہے۔  عدالت نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر یہی صورتحال رہی تو پھر نظریاتی کونسل یہ بھی رائے دے سکتی ہے کہ بلاسفیمی کے مقدمات سے پہلے وہ رائے لے لیں۔  جسٹس کیانی نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیے کہ 28 ویں ترمیم میں یہ بات بھی شامل کر لیں تاکہ ان کا اختیار واضح ہو جائے۔ ایڈیشنل اٹارنی راشد حفیظ بھی عدالتی ریمارکس پر مسکرا دیے۔  تمام دلائل سننے کے بعد عدالت عالیہ نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔