سمیع اللہ ملک آخری قسط
ٹرمپ کی جلدبازی اورجذباتیت نے عالمی امن کیلئے سنگین خطرہ پیداکیا۔ہلیری کلنٹن نے کہاکہ جنگ سے بچنے کاسب سے مثر طریقہ صبر،سفارتکاری اورمعقول فیصلے ہیں۔مثال کے طورپر،2020میں ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعدخطے میں فوری جنگ کاخطرہ پیداہوا۔اگرصدرزیادہ جذباتی اورکم ظرف ہوتا،تویہ ایک بڑے عالمی بحران میں تبدیل ہوسکتاتھا۔ہلیری کلنٹن کی پیشگوئی کے مطابق ایسے حالات میں غیرمستحکم صدرعالمی امن کیلئے خطرہ ہیں۔ٹرمپ کی پالیسیاں نہ صرف ایران بلکہ اسرائیل،یورپ،اوردیگر اتحادی ممالک کے تعلقات پربھی منفی اثرڈال رہی ہیں۔اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہونے کئی سالوں تک امریکاپردباڈالاکہ ایران کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں ، اورٹرمپ کیصدر بننے کے بعدیہ دباکامیاب ہوا ۔اس کے نتیجے میں نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرق وسطی میں بحران پیداہوا۔امریکی اتحادی ممالک بھی غیرمستحکم ہوگئے،اور علاقے میں خود امریکی فوجی اڈے خطرے میں آگئے۔مثال کے طورپر،عراق اورشام میں امریکی فوجی تنصیبات پرحملوں میں اضافہ ہوا،جس سے عالمی امن خطرے میں پڑگیا۔
ٹرمپ کی قیادت میں امریکا کی داخلی سیاست بھی تقسیم اورکشیدگی کاشکارہوئی ہے۔ان کی غیر ذمہ دارانہ تقریراورپالیسیزنے امریکی عوام کے اعتمادکو کمزورکیااوریہ ظاہرکیاکہ امریکا کافیصلہ سازنظام بھی خطرے میں ہے۔مثال کے طورپر،2021میں کیپیٹل ہل پرحملہ ٹرمپ کے بیانات اوراپنی پارٹی کی حمایت کے نتیجے میں ہوا،جس نے امریکی جمہوریت کے استحکام کوشدید نقصان پہنچایا۔یہ ہلیری کلنٹن کے پیشگوئی کی تصدیق ہے کہ غیرمستحکم صدر امریکا کے اندرونی نظام کیلئے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔
ٹرمپ کی جلدبازی اورجذباتیت نے عالمی امن کیلئیسنگین خطرہ پیداکیاہے۔ہلیری نے کہاکہ جنگ سے بچنے کاسب سے مثر طریقہ صبر،سفارتکاری اور معقول فیصلے ہیں۔مگرٹرمپ کی صورت میں دنیاایک غیرمستحکم اورخطرناک رہنماکے ہاتھ میں ہے جوذاتی جذبات پرعالمی فیصلے کرسکتاہے۔ٹرمپ کی پالیسیاں عالمی اقتصادی استحکام کیلئے بھی خطرہ ہیں۔ٹرمپ
کی تجارتی پالیسیوں اورایران پراقدامات نے عالمی اقتصادی استحکام کومتاثرکیا۔ایران پر پابندیاں کمزورہوئیں،جنگ کے خطرات بڑھے،اورعالمی سرمایہ کاری کے مواقع کم ہو گئے ۔مثال کے طورپر،2018میں امریکانے چین کے ساتھ تجارتی جنگ شروع کی،جس سے عالمی منڈی میں بے یقینی پیداہوئی اورمتعددممالک کی معیشت متاثرہوئی۔مشرق وسطی میں کشیدگی نے تیل کی قیمتیں بڑھائیں،چین کے ساتھ تجارتی جنگ نے عالمی معیشت میں بے یقینی پیداکی،اورکئی ممالک کومالی نقصان اٹھاناپڑااورعالمی تجارت متاثر ہوئی۔ اس سے دنیا میں اقتصادی عدم استحکام پیداہوا،اور عالمی سرمایہ کاری کے مواقع کم ہوگئے جس کااثرہرملک پرمحسوس کیاجارہاہے۔
ٹرمپ کی پالیسیوں کے باعث امریکی ہتھیاروں کی صنعت نے اپنے مقاصد حاصل کیے۔جنگ اورتنازعات کے امکان بڑھنے سے ہتھیاروں کی فروخت میں اضافہ ہوا،جوکہ امریکا کے مفادات کیلئیفائدہ مندرہا،لیکن عالمی امن کیلئینقصان دہ ہے۔مثال کے طور پر،سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات نے امریکاسے ہتھیارخریدے تاکہ ایران کے خلاف اپنی فوجی تیاری مضبوط کریں،جس سے عالمی کشیدگی اورخطرات بڑھ گئے۔
ٹرمپ کی پالیسیوں کے باعث امریکی ہتھیاروں کی صنعت نے اپنے مقاصد حاصل کیے۔امریکی ہتھیاروں کی صنعت کو فائدہ پہنچایا۔ٹرمپ کی پالیسیوں کے باعث امریکی ہتھیاروں کی صنعت نے اپنے مقاصدحاصل کیے۔جنگ اورتنازعات کے امکان بڑھنے سے ہتھیاروں کی فروخت میں اضافہ ہوا،جو کہ امریکاکے مفادات کیلئے فائدہ مندرہا، لیکن عالمی امن کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات نے ہتھیارخریدے،جس سے عالمی کشیدگی بڑھی۔جنگ اورتنازعات کے امکان بڑھنے سے ہتھیاروں کی فروخت میں اضافہ ہوا،جوعالمی امن کیلئے نقصان دہ تھا۔
نیتن یاہوکی ایران مخالف پالیسی ٹرمپ کی مددسے کامیاب ہوئی۔اس کے نتیجے میں مشرق وسطی میں عدم استحکام بڑھا،اور امریکی اتحادی ممالک خطرے میں پڑگئے۔مثال کے طور پر،2020میں اسرائیل اورمتحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات قائم ہوئے،لیکن اس کے ساتھ ہی فلسطینی تنازعات میں شدت آگئی۔امریکی حمایت نے کچھ ممالک کے مؤقف کومضبوط کیاجبکہ دیگر ممالک میں نفرت اورکشیدگی پیداہوئی۔اس کے نتیجے میں نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرق وسطی میں بحران پیداہوا۔امریکی اتحادی ممالک بھی غیر مستحکم ہوگئے،اورعلاقے میں امریکی فوجی اڈے خطرے میں آ گئے۔
ٹرمپ کی پالیسیاں یورپ اورمشرق وسطی کے ممالک کیلئے بھی چیلنج بن گئی ہیں۔یورپی ممالک ایران معاہدے کوبرقراررکھنے کی کوشش کررہے تھے ، مگر امریکاکی غیرمتوقع پالیسیوں نے انہیں مشکلات میں ڈال دیا۔امریکی اتحادی ممالک پردبابڑھا،امن کی کوششیں کمزورہوئیں،اورعالمی سیاست میں عدم استحکام پیداہوا۔مثال کے طورپر،یورپی ممالک نے ایران معاہدے کوبرقراررکھنے کی کوشش کی،لیکن امریکا کی غیرمتوقع پالیسیوں نے انہیں مشکلات میں ڈال دیا۔روس اورچین نے بھی اس خلاکا فائدہ اٹھایا،جو عالمی طاقتوں کے درمیان نئی کشیدگی پیداکرنے کاسبب بنا۔ہلیری نے امریکی عوام پراعتمادظاہرکیاکہ وہ صحیح فیصلہ کریں گے۔ان کے مطابق امریکاایک ایساملک ہے جس میں عقلمندی، قومی فخراور شعور موجودہے،اورعوام عالمی خطرات کوسمجھ کرفیصلے کریں گے۔
مثال کے طورپر،2020کے صدارتی انتخابات میں امریکی عوام نے ٹرمپ کی غیرمستحکم پالیسیوں کے اثرات کومدنظررکھتے ہوئے فیصلہ کیا،جس سے ظاہرہواکہ ہلیری کلنٹن کی توقعات درست تھیں۔ہلیری کلنٹن کی پیشگوئی درست ثابت ہوئی ہے۔ٹرمپ کی قیادت نے عالمی امن،اقتصادی استحکام، مشرق وسطی میں حالات،اورنیوکلئیرخطرات میں اضافہ کیاہے۔اس سے یہ واضح ہوتاہے کہ ایک غیرمستحکم اورجذباتی صدرکاانتخاب نہ صرف امریکا بلکہ پوری دنیاکیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتاہے۔
٭عالمی قیادت میں ذمہ دارانہ فیصلے لازمی ہیں۔
٭سفارتکاری اورمذاکرات کو ترجیح دیناچاہیے۔
٭نیوکلئیرہتھیاروں کااختیارصرف مستحکم اورتجربہ کارقیادت کودیاجاناچاہیے۔
٭امریکی عوام اوردنیاکوایسے رہنماں کے انتخاب میں محتاط رہناچاہیے جوعالمی امن اوراستحکام کے دشمن نہ ہوں۔
٭مشرق وسطی میں بحرانوں کے حل کیلئے عالمی طاقتوں کومشترکہ حکمت عملی اپناناضروری ہے۔
٭امریکی عوام اوردنیاکوایسے رہنماں کے انتخاب میں محتاط رہناچاہیے جوعالمی امن اوراستحکام کے دشمن نہ ہوں۔
آج ہم اس تاریخی لمحے کی گواہی دے رہے ہیں جب ایک غیر مستحکم اورجذباتی رہنماکے فیصلوں نے عالمی امن وسیاست، اقتصادی استحکام،اورانسانی زندگیوں کوخطرے میں ڈال دیا۔ ہلیری کلنٹن کی پیشگوئی صرف تنبیہ نہیں بلکہ ایک انتباہ ہے،بلکہ ایک سبق ہے جوصدیوں تک یادرکھاجائے گا۔ہلری کلنٹن کابیان ہمیں یہ سکھاتاہے کہ قیادت کاانتخاب کوئی معمولی عمل نہیں۔یہ پیغام صرف امریکاکیلئینہیں،بلکہ ہرقوم،ہرشہری،اورہررہنماکیلئے ہے۔عالمی طاقت اورجنگ وامن کے فیصلے جذبات یاذاتی مفادات کی بنیاد پرنہیں بلکہ دانشمندی ،صبر،اورعالمی شعورکی بنیادپرکیے جانے چاہئیں۔ قیادت وہ نہیں جوطاقت یاذاتی غرورکی بنیادپرفیصلہ کرے،بلکہ وہ ہے جوعلم،بصیرت،صبراوراخلاق کے ساتھ دنیا کی تقدیرکی ذمہ داری اٹھائے۔
اگرہم اس سبق کونہ سمجھیں،توتاریخ ہمیں بارباراسی تلخ حقیقت سے دوچارکرے گی کہ غیرذمہ دار قیادت نہ صرف اپنی قوم بلکہ پوری انسانیت کیلئے خطرہ ہے۔یہ ہماری زمینی ذمہ داری ہے کہ ہم ایسے رہنماں کوآگے آنے نہ دیں جوجذبات،غروریاذاتی مفادات کے باعث انسانی زندگیوں اورامن کوخطرے میں ڈال سکتے ہیں۔آج ہمیں یہ عزم کرناہے کہ قیادت کے فیصلے صرف طاقت،شہرت یاذاتی جذبات کی بنیاد پرنہیں،بلکہ عقل،تجربے، اخلاقیات اور عالمی شعورکی بنیادپرکیے جائیں۔یہی سبق ہے،یہی پیغام ہے،اوریہی ہمارا تاریخی فرض ہے کہ ہم مستقبل کی قیادت کوایک ذمہ دارانہ اور انسانی سوچ کے ساتھ منتخب کریں۔