امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی 7 روزہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کردی ہے اور اپنے معاونین سے کہا ہے کہ نومبر کے مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ بمباری شروع ہوسکتی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ کو خدشہ ہے کہ تہران ان کے مطالبات تسلیم نہیں کرے گا۔رپورٹ کے مطابق ایران کی تجویز میں 7 روزہ جنگ بندی، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جوہری مذاکرات بحال کرنے کی پیشکش شامل تھی، جس کے بدلے امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے کی بات کی گئی تھی۔دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے بعض بیرونی مشیر آئندہ مڈٹرم انتخابات کے تناظر میں وفاقی انتخابات پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات اور مارشل لا کے امکان پر بات کر رہے ہیں۔ دی اٹلانٹک کی رپورٹ میں ٹرمپ کے دیرینہ ساتھی اور وکیل پیٹر ٹکٹن کا ذکر کیا گیا ہے، جنہوں نے نومبر کے انتخابات کے دوران مارشل لا کے امکان کی بات کی ہے۔رپورٹس کے مطابق ٹکٹن ان بیرونی مشیروں میں شامل ہیں جو وفاقی انتخابات میں مداخلت یا انہیں وفاقی کنٹرول میں لینے کے لیے ہنگامی اختیارات استعمال کرنے کی تجاویز دے رہے ہیں۔ تاہم یہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اعلان کردہ پالیسی نہیں ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بھی واضح کیا ہے کہ ٹکٹن سمیت بعض متعلقہ افراد وائٹ ہاؤس کی انتخابی پالیسی میں کوئی سرکاری کردار نہیں رکھتے۔دریں اثنا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے بعض دیگر مشیر گزشتہ کئی ماہ سے انہیں 2020 کے انتخابات اور آئندہ انتخابات میں دھاندلی سے متعلق بے بنیاد نظریات سے دور رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ بیرونی مشیروں کا ایک گروپ اس کے برعکس انتخابات پر اثرانداز ہونے کے لیے مختلف اقدامات کی ترغیب دے رہا ہے۔پیٹر ٹکٹن نے مڈٹرم انتخابات کے حوالے سے مارشل لا کو ممکنہ منظرناموں میں شامل کیا ہے، تاہم ٹرمپ نے خود مڈٹرم انتخابات کے لیے مارشل لا نافذ کرنے کا کوئی اعلان نہیں کیا۔