3محکمہ اوقاف اہلکاروں کی محکمانہ اپیلیں مسترد، سزائیں برقرار

شفقت عباس ،زوار حسین کی 5، 5 سال سروس ضبط،12 لاکھ ریکور کرنیکی سزا ملی
طارق نجمی کی 5 سال سروس ضبط کرنے،13 لاکھ 18 ہزار ریکوری کی سزادی برقرار 
لاہور(خصوصی رپورٹ)چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان نے پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکانٹیبلٹی ایکٹ 2006 کی دفعہ 16 کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے محکمہ اوقاف میں مالی بے ضابطگیوں، سرکاری آمدن کے تحفظ میں غفلت اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کے مقدمات میں سابق منیجر اوقاف اوکاڑہ شفقت عباس، سابق جونیئر کلرک زوار حسین اور کمپیوٹر آپریٹر طارق محمود نجمی کی محکمانہ اپیلیں مسترد کرتے ہوئے سزائیں برقرار رکھیں۔ محکمہ ترجمان کے مطابق شفقت عباس اور زوار حسین کیخلاف اوقاف سرکل اوکاڑہ، زون پاکپتن میں 6 کروڑ 2 لاکھ 39 ہزار 901 روپے کی مبینہ مالی خوردبرد اور بے ضابطگیوں پر کارروائی کی گئی جبکہ دربار حضرت بابا بلھے شاہؒقصور میں نقد عطیات اور آمدن وصولی میں مبینہ بے ضابطگیوں پرکمپیوٹر آپریٹر طارق محمود نجمی کیخلاف کارروائی کی گئی۔ انکوائری رپورٹس، متعلقہ ریکارڈ، محکمانہ موقف اور دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد چیف سیکرٹری نے قرار دیا کہ متعلقہ اہلکار سرکاری آمدن کے تحفظ، مالی شفافیت اور ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ناکام رہے اور اپنے دفاع میں قابلِ اطمینان شواہد پیش نہ کر سکے۔ چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف نے شفقت عباس اور زوار حسین کو پانچ، پانچ سال کی سابقہ سروس ضبط کرنے اور مجموعی طور پر 12 لاکھ 4 ہزار 780 روپے ریکوری جبکہ طارق محمود نجمی کو پانچ سال کی سابقہ سروس ضبط کرنے اور 13 لاکھ 18 ہزار 955 روپے ریکوری کی سزائیں دی تھیں۔ چیف سیکرٹری نے تینوں اپیلوں کو مسترد کر دیا اور محکمانہ سزائیں برقرار رکھیں۔