حوثیوں کے حملے جاری، ریاض کی جانب داغا گیا میزائل فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ

حوثیوں کے حملے جاری، ریاض کی جانب داغا گیا میزائل فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ

سعودی عرب کی قیادت میں یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف سرگرم اتحادی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ہفتے کے روز سعودی دارالحکومت ریاض کی جانب داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کردیا گیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں سکیورٹی صورتِ حال کشیدہ ہے اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کو نشانہ بنانے سے متعلق اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔

ریاض میں دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں
اے ایف پی کے ایک صحافی کے مطابق، ہفتے کی علی الصبح سعودی دارالحکومت ریاض میں دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ واقعے کے دوران سعودی سول ڈیفنس نے ممکنہ خطرے کے پیش نظر شہریوں کو خبردار کرنے کے لیے ابتدائی انتباہی نظام بھی فعال کردیا۔شہریوں کو خبردار کرنے کے لیے ہنگامی نظام کا فعال ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکام نے صورتِ حال کو سنجیدگی سے لیا اور ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے احتیاطی اقدامات کیے۔

اتحادی فوج کا میزائل روکنے کا دعویٰ
سعودی قیادت میں سرگرم اتحادی فوج کے مطابق، ریاض کی جانب داغے گئے بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی روک کر تباہ کردیا گیا۔ تاہم، دستیاب اطلاعات میں میزائل کے داغے جانے کے مقام، اسے روکنے کے طریقۂ کار اور واقعے کی دیگر تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔اسی طرح یہ بھی واضح نہیں ہوسکا کہ میزائل کے ٹکڑے کسی علاقے میں گرے یا اس واقعے کے نتیجے میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان ہوا۔

خطے میں سکیورٹی خدشات برقرار
یمن میں حوثی گروپ اور سعودی عرب کے درمیان تنازع ماضی میں بھی سرحد پار حملوں اور میزائل و ڈرون کارروائیوں کا باعث بنتا رہا ہے۔ ایسے واقعات خلیجی خطے میں سکیورٹی خدشات کو بڑھا سکتے ہیں، خصوصاً جب حملوں کا ہدف اہم شہری مراکز ہوں۔تاہم، اس واقعے کے حوالے سے حوثی گروپ کا مؤقف اور حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے متعلق کوئی تصدیق شدہ بیان دستیاب اطلاعات میں سامنے نہیں آیا۔

جانی و مالی نقصان سے متعلق تفصیلات سامنے نہ آسکیں
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، سعودی حکام نے ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے انتباہی نظام فعال کیا، جبکہ اتحادی فوج نے میزائل کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ واقعے کے بعد ممکنہ نقصان اور حملے کے پس منظر سے متعلق مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔