13 لاکھ سرپلس چینی کی اضافی مقدار نے انڈسٹری کو بھاری نقصان پہنچایا
کرشنگ سیزن میں نئی چینی کی آمد پر صورتحال مزید بگڑ جائے گی:ترجمان
لاہور (خصوصی رپورٹ )پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نارتھ زون نے کہا ہے کہ ادارہ شماریات کے ہفتہ وار اعداد وشمار کے مطابق چینی کی قیمتیں گزشتہ ایک سال کے عرصے میں 25 فیصد تک کم ہوئی ہیں اور شوگر سیکٹر کو بدستور مالی بحران کا سامنا ہے جس میں حکومت کی جانب سے پالیسی فیصلوں میں تاخیر کے باعث مزید شدت آئی ہے۔ اس عرصے کے دوران شوگر انڈسٹری کو 98 اَرب روپے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ملک بھر میں 12 شوگر ملیں پہلے ہی نقصانات کی وجہ سے بند ہو چکی ہیں اور بہت سی دیگر ملیں بند ہونے کے قریب ہیں۔ چینی کے بھاری ذخائر کی موجودگی کے باعث شوگر انڈسٹری ممکنہ طور پر آئندہ کرشنگ سیزن27-2026 کا بروقت آغاز کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گی اور نہ ہی وہ گنے کے کاشتکاروں کو گزشتہ برسوں کی طرح بہتر قیمتیں ادا کر سکیں گی۔13 لاکھ سرپلس چینی کی اضافی مقدار نے شوگر انڈسٹری کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ انڈسٹری کوچینی کے اضافی ذخائر کو سنبھالنے کی لاگت برداشت کرنی پڑی جو کہ بینک قرضوں پر مالیاتی اخراجات کی صورت میں تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ سیلز ٹیکس کی بلند ترین شرحوں کے باوجود پاکستان میں چینی کی قیمتیں دنیا بھر میں سب سے کم ہیں۔ترجمان نے کہا کہ جب تک کم از کم 10 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی برآمد نہیں کی جاتی تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ آنے والے کرشنگ سیزن میں نئی چینی کی آمد پر مذکورہ صورتحال مزید بگڑ جائے گی۔ مزید برآں حکومت کو شوگر انڈسٹری کو مکمل ڈی-ریگولیٹ کر دینا چاہیئے۔