مکہ مکرمہ، جدہ اور طائف میں ممکنہ خطرے کا انتباہ، سعودی سول ڈیفنس نے الرٹ واپس لے لیا

مکہ مکرمہ، جدہ اور طائف میں ممکنہ خطرے کا انتباہ، سعودی سول ڈیفنس نے الرٹ واپس لے لیا

ریاض: سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع نے ملک کے مغربی حصے کے چار اہم علاقوں مکہ مکرمہ، جدہ، طائف اور ساحلی شہر ینبع میں ممکنہ خطرے سے متعلق ہنگامی انتباہ جاری کرنے کے چند منٹ بعد ہی واپس لے لیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، شہری دفاع کی جانب سے جاری کیے گئے انتباہ میں متعلقہ علاقوں کے رہائشیوں کو فوری طور پر قریبی محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔ تاہم، یہ الرٹ مختصر وقت کے بعد واپس لے لیا گیا، جس کے باعث اس کی وجوہات سے متعلق سوالات سامنے آئے ہیں۔

مکہ مکرمہ، جدہ، طائف اور ینبع میں الرٹ جاری

ہنگامی انتباہ میں مکہ مکرمہ، جدہ، طائف اور ینبع کو شامل کیا گیا تھا۔ مکہ مکرمہ مسلمانوں کے لیے مقدس ترین شہر ہے، جبکہ جدہ بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع سعودی عرب کا ایک اہم تجارتی اور شہری مرکز ہے۔ طائف اور ینبع بھی ملک کے اہم شہروں میں شمار ہوتے ہیں۔شہری دفاع کی جانب سے شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی ہدایت نے اس انتباہ کی اہمیت کو بڑھا دیا تھا، تاہم اسے چند منٹ بعد واپس لے لیا گیا۔

شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت

رپورٹ کے مطابق، انتباہ واپس لینے کے بعد بھی محکمہ شہری دفاع نے شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی۔ حکام نے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے یا ان کے خلاف کارروائی سے متعلق تصاویر اور معلومات سوشل میڈیا سمیت دیگر ذرائع پر شیئر کرنے کے حوالے سے قانونی تنبیہ بھی دہرائی۔

الرٹ جاری کرنے کی وجہ تاحال سامنے نہیں آئی

دستیاب رپورٹ میں فوری انتباہ جاری کرنے کی وجہ واضح نہیں کی گئی۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ آیا متعلقہ علاقوں میں کسی میزائل یا ڈرون کی موجودگی کی اطلاع تھی یا نہیں۔اسی طرح، انتباہ واپس لیے جانے کے بعد ان علاقوں میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع بھی فراہم نہیں کی گئی۔