سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
19ویں صدی میں جب برطانوی حکمران برصغیرمیں اپنی جڑیں مضبوط کررہے تھے،ان کی توجہ مشرقی سرحدوں کی بجائے تجارتی شاہراہوں اورداخلی استحکام پرمرکوزرہی۔ تبت، سنکیانگ اورلداخ کے بیچ کی بنجروادیاں انہیں اس قدربے سودمحسوس ہوئیں کہ کئی متنازع خطوطارداغ-جانسن لائن،میکارٹنی-میکڈونلڈلائن تجویزتوہوئیں،مگربین الاقوامی حیثیت کبھی نہ پاسکیں۔تاریخ کی دھندمیں گم سرحدیں اپناسراغ پانے کیلئے بے تاب ہوچکی ہیں۔
انگریزوں کی بے فکری اورسیاسی ابہام،ایک ایسی الجھی ہوئی میراث چھوڑگئے جس کاخمیازہ آج تین ممالک بھگت رہے ہیں۔چین، جس کی کمیونسٹ حکومت نے1949میں اقتدار سنبھالا،صاف کہہ چکی تھی کہ’’ہمارے کسی عہدیدارنے کسی بھارتی نمائندے سے سرحدکاکوئی معاہدہ نہیں کیا،لہذاہمارے لیے یہ لکیریں کاغذی حیثیت رکھتی ہیں‘‘۔جہاں مفادات باہم ہوں،وہاں نظریات پیچھے رہ جاتے ہیں۔پاکستان اورچین کی دوستی کاآغازنظریاتی ہم آہنگی سے نہیں ہوابلکہ ایک ایسے سیاسی خلامیں ہواجہاں بھارت کاسامراجی مزاج،امریکاکی محدودپالیسی اورسوویت یونین کاابہام تینوں نے راستہ ہموارکیا۔یہ وہ دوستی تھی جوسیاست کی پگڈنڈی سے شروع ہوکرمعیشت،دفاع،سفارت اوراب سی پیک جیسے بین الاقوامی منصوبوں تک جا پہنچی ہے۔
آج چین-پاکستان تعلقات سی پیک کی شکل میں ایک نئی بلندترین سطح پرپہنچ چکے ہیں۔یہ60ارب ڈالرسے زائدکامنصوبہ،محض اقتصادی راہداری نہیں،بلکہ چین کی عالمی حکمتِ عملی بیلٹ اینڈروڈانیشی ایٹوکامرکزی سنگِ میل ہے۔جودنیاکاسب سے بڑاتجارتی اورتعمیری پراجیکٹ ہے جس پرڈھائی ٹریلین ڈالرکی لاگت متوقع ہے اوریہ دنیاکے52مماممالک کوایک تجارتی لڑی میں پروکررکھ دینے کاوہ پراجیکٹ ہے جس کاچین نے نہ صرف خواب دیکھابلکہ عملی طورپراس کی تعبیرکافائدہ بھی اٹھانے کیلئے تیارہے کہ اس نے برسوں پہلے یہ
کہاتھاکہ دنیاکوطاقت سے نہیں بلکہ تجارتی دوستی کے ساتھ فتح کریں گے۔پاکستان کیلئے بھی یہ اقتصادی بقا،توانائی کاتسلسل،اورعلاقائی رسائی کاراستہ ہے،جبکہ چین کیلئے گوادر سے خنجراب تک کازمینی راستہ، مشرق وسطی اورافریقاتک رسائی کی کلیدہے۔
تاریخ کاپہیہ رکنے والانہیں،لیکن اس کے نشانات کبھی مٹتے نہیں۔جودوستی کبھی پنچ شیل کی بنیادپراٹھی تھی،وہ زمیں بوس ہوئی،اور جومفاہمت،مفادات اوراخلاص کی فصل پرپروان چڑھی،وہ آج بھی قائم ہے فولادکی طرح مضبوط،اورموسموں کی طرح ہم آہنگ۔ابتدا میں یہ سوال تھاکہ کیاچین نے پہل کی یاپاکستان نے؟توتاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پہل ضرورت نے کی،قدم چین نے بڑھایا،اوردستِ تعاون پاکستان نے تھاما۔دشمن کادشمن جب دوست بن جائے تویہ سیاست کی سادہ حکمت کہلاتی ہے،مگرجب یہ دوستی دہائیوں تک قائم رہے، تواسے تاریخ کی دانائی کہاجاتاہے۔
چین اورپاکستان کارشتہ اب مفادات سے کہیں آگے،نظریاتی ہم آہنگی اورجغرافیائی ہم نصیبی کارشتہ بن چکاہے۔جس دوستی کی بنیاد سرحدی تبادلے پررکھی گئی،آج وہ عالمی اسٹیج پر مشترکہ بیانیہ،دفاعی اشتراک،اورسفارتی ہم آہنگی میں ڈھل چکی ہے۔اس طرح ایک نکتہ آغازسے ایک نظریاتی ہم آہنگی تک کایہ سفرفولای دوستی میں تبدیل ہوا۔
اب سوال یہ ہے کہ اب اس خطے پاک چین دوستی نے مودی اوراس کے اتحادیوں کی رات کی نیندیں اوردن کاچین کیوں بربادکردیا ہے؟اس کی سب سے بڑی وجہ پہلے توقوم پرست مودی اورآرایس ایس کاوہ نظریہ ہے جواکھنڈبھارت بنانے کاخواب دیکھ رہے ہیں کہ جہاں جہاں بحرہندکاساحل لگتاہے،وہ اکھنڈبھارت کاحصہ ہے اوردوسری طرف گریٹر اسرائیل کاخواب جواب ایک نقشے کی صورت میں نصف درجن مسلم مملکتوں کی سرزمین پرمشتمل ہوگااوریہودوہنودمملکتوں کی سرحدیں اپس میں مل جائیں گی اورسابقہ یہودی امریکی وزیرخارجہ سیکرٹری ہنری کیسنجرکاتخلیق کردہ ورلڈآرڈرجیساناپاک منصوبہ معرضِ وجودمیں آئے گا۔
یہ دنیاہمیشہ سے طاقت کے ترازومیں تولی جاتی رہی ہے۔کبھی سلطنتوں کے خیمے لہراتے تھے،اب کرسی کی چمک آنکھوں کوخیرہ کرتی ہے۔ماضی میں بھی بادشاہوں نے اپنی رعایاکو ’’جنت نشین‘‘کہا،اورآج جمہوریت کے علم بردارانہیں’’قوم پرست‘‘کہہ کرجھانسہ دیتے ہیں۔مگرکھیل وہی ہے،مہرے بدل گئے ہیں،چالیں باقی ہیں۔ جنگ کانیا بازارآج بھی گرم ہے،فرق اتناہے کہ تلواروں کی جگہ اب ٹی وی اسکرینوں پرنعرے گونجتے ہیں‘‘۔
چہرہ وجودمیں آچکاہے،بارودسے زیادہ بیانیہ کی گونج سنائی دے رہی ہے۔مکارمودی نے اپنی راج نیتی کومستقل کرنے کیلئے ملکی میڈیا کوخریدلیاہے کہ اب یہ ساری دنیامیں’’گودی میڈیا ‘‘(مودی کی گودمیں)کے نام سے رسواہورہاہے۔
کہتے ہیں جنگ کبھی ختم نہیں ہوتی،صرف اس کامفہوم بدلتارہتاہے۔آج کی جنگیں وہ نہیں رہیں جن میں سپاہی نیزے لیکرصف بندی کیا کرتے تھے۔آج ہتھیارپہلے تیارہوتے ہیں،پھران کیلئے محاذتراشے جاتے ہیں۔ہتھیاروں کی منڈی اب صرف میدانِ جنگ نہیں،سیاسی میدان کاآلہ بن چکی ہے۔ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس،وہ آکٹوپس ہے جس کی ہر شاخ کسی نہ کسی قوم کے بجٹ،کسی نہ کسی جوان کی جان،اورکسی نہ کسی ماں کے بیٹے سے چمٹی ہوتی ہے۔یہ جنگی مافیا وہ درندہ ہے جوجنگ سے نہیں جیتا،جنگ کے نام پرجیتاہے۔ میرے انتہائی محترم انگریزدانشوردوست کایہ فقرہ اکثرمجھے یادرہتاہے کہ دنیامیں سب سے زیادہ طاقتورجنگی مافیاہے جس کی مرضی سے دنیاکی حکومتیں ٹوٹتی اورقائم ہوتی ہیں۔اگر سیاست کسی عظمت کانام ہے توپھراسے جھوٹ کے کاندھوں پرکیوں سوارکیاجاتاہے؟مودی جیسے قائدین کیلئے’’نیشنل ازم‘‘ایک مقدس لبادہ ہے،جس کے نیچے وہ اپنے اقتدارکے ناپاک ارادوں کوچھپاتے ہیں۔مکارہندوسیاست کاگروچانکیہ کی سیاست کایہ پہلااصول ہے کہ جب معاشی گراف نیچے جائے،توجنگی گراف بلندکردومودی اس کابہت بڑا پیرو کار ہے جواسی اصول پرکام کرتے ہوئے اپنے اقتدارکودوام دینے کی کوشش کررہاہے۔مودی جانتاہے کہ بیروزگاری کے مارے ہوئے،تعلیم سے محروم،صحت سے مایوس لوگ اگر سوچنے لگیں،توحکومت کے تانے بانے بکھرجائیں۔اس لیے ان کے سامنے ایک نیادشمن کھڑاکروکبھی پاکستان،کبھی چین،کبھی نیپال۔بس دشمن رہے،تاکہ سوال نہ رہے۔
اسی لئے مودی اپنے سیاسی گروچانکیہ کے اصولوں پرعمل کرتے ہوئے’’آتشِ سیاست میں سلگتی جنتاکیلئے جنگ،اقتداراورمیڈیاکی سہ رخی تثلیث‘‘کابھرپوراستعمال کررہاہے۔ اس نے ملک بھرکے میڈیاکومنہ مانگی قیمت پرخریدرکھاہے اورجب بھی کوئی حکومتی کارکردگی پرسوال کرتاہے تویہ گودی میڈیاسوال کرنے والے کوغدارکہہ کربدنام کرناشروع کردیتے ہیں:جب کوئی نوجوان سوال کرے روزگارکہاں ہے؟کوئی مائیں پوچھیں،ہسپتال کیوں خالی ہیں،کوئی مزدورفریادکرے،روٹی کیوں مہنگی ہے؟توگودی میڈیاانہیں فورایاددلاتا ہے ملک خطرے میں ہے،ملک بچے گاتوسب کچھ ملے گا۔
یہ میڈیا،جوکبھی خبردیتاتھا،اب حکومت کی ترجمانی کرتاہے۔جنگی ترانے،حب الوطنی کے نعروں،اورمخالف آوازوں کو’’غداری‘‘کا تمغہ دینے والے ٹاک شوزاب سچ کے دروازے پر پہرہ دے رہے ہیں۔سچ کہنے والوں کو’’ٹکڑے ٹکڑے گینگ‘‘،’’شہریت کے غدار‘‘،یا ’’دیش دروہی‘‘کہاجاتاہے۔جب کسی قوم کے پاس بھوک مٹانے کاوسیلہ نہ ہو ،تواسے قربانی کے جنگی گیت گانے پرلگادو۔’’ہم بھوک پیاس برداشت کرلیں گے، مگرجھکیں گے نہیں‘‘،یہ نعرہ نہیں،مایوسی کامنشورہے۔مودی حکومت کہتی ہے،ملک رہے گاتوسب ہوگامگربھوکی ننگی عوام کہتی ہے ملک توہے،ہم ہی نہیں ہیں۔گویامودی اپنے اقتدارکے دوام کیلئے اپنی جنتاکوقربانی کانعرہ لگانے کیلئے مجبورکررہاہے لیکن عوام کی ٹھنڈے چولہے اب
ایسے اقتدارکوآگ لگانے کیلئے بلبلارہے ہیں۔قومی غیرت کانعرہ خوبصورت ہے،مگرجب اس کی آڑمیں بنیادی حقوق کوکچلاجائے،تویہ نعرہ ایک زنجیربن جاتاہے۔یہ زنجیرعوام کے پاؤں میں،اورطاقت کے ایوانوں کی سیڑھی بن جاتی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں حکومت کی ذمہ داری صرف سرحدیں بچانانہیں،انسانی حرمت،
انصاف،تعلیم، صحت،اورمعیشت کاقیام بھی ہے۔قرآن ہمیں سکھاتاہے:وہی رب جس نے انہیں بھوک سے نجات دی اورخوف سے امن دیا۔
جب حکمران قوم کو نہ روٹی دے سکیں،نہ تحفظ،اورنہ سچ بولنے کی آزادی،تووہ’’حاکم‘‘نہیں رہتے،بارِامانت کے خائن بن جاتے ہیں۔سیاست اگرخدمت ہے،توسوالوں سے نہیں ڈرتی۔اگرحکمرانی صداقت سے ہے،توسچ بولنے والوں کوقیدنہیں کیاجاتا۔گودی میڈیاکاسہارا لیکرحکومت کوچلایانہیں جاتا،یادرکھیں!اگرحکومت نعرے سے چلتی ہے،توپھروہی قوم جھوٹ کاایندھن بن جاتی ہے۔عوام کومہنگائی کے ہاتھوں بھوکاپیاسارہنے پرمجبورکرکے جوحکومتیں اتراتی ہیں،انہیں تاریخ کانٹوں پرلٹادیتی ہے۔گودی میڈیایہ جان لے کہ جہاں میڈیا اپنی جانبداری اورسچ بولنے کی قیمت وصول کرکے مصلحت کا،سیاست نعرے کا،اورعوام خاموشی کاشکارہوچکی ہوتووقت کاکوڑہ میدان میں اپناجوہردکھانے پہنچ جاتاہے اوریہ مکافاتِ عمل ہے کہ جب غریب کابچہ بھوکاسوتاہے،تواس کے آنسونظام کوبہالے جاتے ہیں۔پچھلی سات دہائیوں سے زائدبے گناہ کشمیریوں کے لاشے،جوان بیوائیں،معصوم یتیم بچے اوراجتماعی قبریں اپناحساب بے باق کرنے کیلئے ایساتاریخی میدان سجانے والے ہیں،جہاں سے کسی بھی ظالم کیلئے راہِ فرارنہیں ہوگا۔
مودی جان لے کہ سچ وہی ہے جوعوام کہہ رہی ہے،اوروہ سچ نہیں جوگودی میڈیاکہہ رہا ہے۔