سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
یہ تاریخ کاایک نادرباب ہے کہ جہاں کل تک ہندی چینی بھائی بھائی کی صدائیں گونج رہی تھیں،آج وہاں تمام موسموں کے فولادی بھائیوں کی داستان رقم ہوچکی ہے۔یہ محض سیاسی تقرب کانتیجہ نہ تھابلکہ وقت کی سوئیوں کے ساتھ رواں بین الاقوامی مفادات، خطے کی حرکیات،اورعالمی قوتوں کی چالوں کاوہ پیچیدہ تاناباناتھا،جس نے دوایسے ممالک کوایک دوسرے کے پہلوبہ پہلولاکھڑا کیا،جواپنے خمیرمیں یکسرمختلف،مگراپنے مقاصدمیں ہم آہنگ ہوگئے۔ہمالیہ کی گھاٹیوں سے فولادی بھائیوں تک اورہندی-چینی بھائی چارے سے چین-پاکستان اشتراک کی داستان کاایک ایساآغازہواجس نےآسمانوں کی بلندیوں اوروسعتوں،سمندروں کی گہرائی سے بھی کہیں زیادہ کی مثالیں سچ ثابت کردیں۔
دنیاکی سیاست میں کچھ تعلقات ایسے ہوتے ہیں جوبظاہرحالات کے جبرسے بنتے ہیں،مگروقت انہیں ایسی پائیداری عطاکرتاہے کہ وہ نسلوں تک نظیربن جاتے ہیں۔چین اور پاکستان کے درمیان موجودہ تعلق کواگرفولادی بھائی چارہ کہاجائے تواس کی بنیادصرف مشترکہ مفادات پرنہیں بلکہ اس تاریخ پرہے جومغرب کی بچھائی ہوئی سرحدی بساط،سامراجی میراث،اورسردجنگ کی سفارتی دھند سے جنم لیتی ہے۔1950کی دہائی کے آغازمیں بیجنگ کادل دہلی پرمائل تھامگراگلی دہائی کے آتے آتے یہ دیوانگی سردپڑگئی،اور پاکستان، جواس وقت امریکاکاقریبی اتحادی تھا،چین کیلئیایک غیرمتوقع مگرموزوں رفیق بن گیا۔
مابعدِنوآبادیاتی عہدمیں جہاں نئی ریاستیں اپنی شناخت کیلئیکوشاں تھیں،وہیں چین،ایک عظیم الشان انقلابی تحریک کے بعد1949میں عوامی جمہوریہ کے طورپرابھرا۔بیجنگ کی اولین ترجیحات میں بھارت نمایاں تھا۔پچاس کی دہائی کے افق پراگرچین کی نظریں محبت ومفاہمت کے آئینے میں کسی چہرے کوتلاش کررہی تھیں تووہ چہرہ بھارت کاتھا،جس کے ساتھ پنچ شیل کے اصول اورافہام و تفہیم کی نویدسنائی جارہی تھی۔کمیونزم کی نئی حکومت بیجنگ میں منصہ شہودپرآئی،تواس نے امریکاکے مخالف کیمپ سے خودکو جوڑنے کیلئے سوویت اثرونفوذکے سائے میں بھارت کوزیادہ قابلِ اعتبارشراکت دارپایا۔اس وقت تک بھارت غیروابستہ تحریک کا علمبرداراورسوویت روس کیلئیایک قابلِ اعتمادتوازن تصورہوتاتھا۔ چین اوربھارت نے پنچ شیل معاہدے(1954)پردستخط کیے اور دنیانے ایک نئے بھائی چارے کاجشن منایا۔
اس وقت کے اخبارات،جلسے،اورپالیسی بیاناتہندی چینی بھائی بھائیکے نعروں سے گونج اٹھے۔چین نے اپنی سفارتی زبان میں پہلی بارایشیاکی مشترکہ تقدیرکاتصورپیش کیا،جس میں بھارت کوایک فطری ساتھی کی حیثیت دی گئی لیکن اندرونِ خانہ خاموشی سے ایک اورکہانی لکھ رہی تھی۔اکسائی چن اوراروناچل پردیش پرپرانی برطانوی لکیریں جھوٹے جغرافیائی خوابوں کی بنیادبن چکی تھیں۔چین کے نزدیک یہ خطے تاریخی طورپرتبت یاسنکیانگ کاحصہ تھے،جبکہ بھارت انہیں کشمیراوراپنے شمال مشرقی صوبے کا لازمی جزوگردانتارہا۔اس وقت پاکستان امریکاکی جھولی میں تھا،سیٹواورسنٹوکاوفاداررکن،اوراس کی خارجہ پالیسی میں امریکاکاسایہ ایسامحیط تھاجیسے صحرامیں کہیں دوردھندمیں لپٹاہواسراب لیکن کسی کومعلوم نہیں تھا کہ جلدہی یہ منظرنامہ بدلنے والاتھاجب دوست دشمن ہوجائے گا اوردشمن دوست بن جائے گااورایک خواب کی تعبیراورتعبیرکی بربادی کاسفراس طرح شروع ہوجائے گاکہ ہندی چینی بھائی بھائی کا نعرہ لگانے والے"بغل میں چھری اورمنہ میں رام رام کہنے" والوں کااصلی چہرہ سامنے آجائے گا۔
پرانے محاورے ہیں کہدنیاکاکوئی تعلق ابدی نہیںاورسیاست میں مستقل دشمنی یادوستی کوئی شے نہیں،صرف مفادات مستقل ہوتے ہیں۔یہی وہ اصول ہے جس پرآنے والی دہائی نے مہرِتصدیق ثبت کی۔ہندی-چینی دوستی کی نرم چادرپر پہلی خراش1959کے بعد نمایاں ہوئی جب تبتی رہنمادلائی لامانے بھارت میں پناہ لی۔دلائی لاماکی بھارت میں پناہ گزینی،چین کیلئیسفارتی چوٹ تھی۔اس وقت چین کی قیادت نے محسوس کیاکہ جس بھارت کووہ بھائی سمجھتارہا،وہ درحقیقت اس کے داخلی معاملات میں مداخلت کامرتکب ہو منافق بن چکاہے۔
اکسائی چن کاسرحدی تنازع،مکماہون لائن پراختلاف،اروناچل پردیش پرچین کے دعویان تمام قضیوں نے چین وبھارت تعلقات میں وہ دراڑڈالی جواب بڑھتے ہوئے دیوار چین بن چکی ہے۔اس کے بعداچانک بھارت کی طرف سے سرحدی جھڑپیں معمول بن گئیں جوجلدہی1962کی جنگ پرمنتج ہوئی۔اس مختصرمگرشدیدجنگ نے ہندی-چینی بھائی چارے کی تدفین کردی۔اس جنگ نے جہاں نہ صرف برصغیرکے جغرافیائی توازن کوہلاکررکھ دیا،اورچین کے سیاسی مزاج کوبھی نئی جہت دی بلکہ ہمارے حکمران ایوب خان بھی امریکی دھوکہ میں آکر پلیٹ میں پڑے کشمیرکوحاصل نہ کرسکے گویا"لمحوں کی خطا،صدیوں کی سزا"میں تبدیل ہوگئی۔
یہی وہ ایک لمحہ تھاجب چین کواحساس ہواکہ بھارت نہ صرف اس کے جغرافیائی مفادات کیلئیخطرہ بن چکاہے بلکہ سردجنگ کے تناظرمیں امریکاسے بھی قریب ہوتاجارہاہے۔یوں چین نے متبادل ساتھی کی تلاش میں پاکستان کی طرف رخ کیا۔چین نے فیصلہ کرلیا کہ اگربھارت غیرقابلِ اعتمادہے،توپاکستان،جس سے بھارت کی ازلی رقابت ہے،قابلِ غور دوست ہوسکتاہے۔اسی نکتے نے پاکستان اور چین دوستی کی سمت کاتعین کردیا۔
یہاں سوال اٹھتاہے کیایہ دوستی چین کی پیش رفت تھی یاپاکستان کی سیاسی فہم وفراست کی بدولت؟حقیقت یہ ہے کہ دونوں طرف سے یہ قربت تدریجا،لیکن پختگی سے پروان چڑھی ۔ پاکستان نے چین کوجلدی پہچان لیا1951میں پاکستان،چین کوتسلیم کرنے والا پہلامسلم ملک بناجس نے چین کوسفارتی طورپرتسلیم کیاتھاحالانکہ پاکستان سیٹواورسنٹوجیسے امریکی معاہدوں کارکن بننے کے باوجود،جنرل ایوب خان کی قیادت میں ایک"متوازن خارجہ پالیسی"کا آغازہوا،جس میں چین کورفتہ رفتہ ایک اسٹریٹجک پارٹنرکے طورپرجگہ دی گئی۔جلدہی تجارت،ثقافت،سفارت،اوربالآخرعسکری وجغرافیائی اشتراک کاایساسلسلہ شروع ہواجس کی گونج آج تک جاری ہے۔اینڈریوسمال کی کتاب"دی چائنا پاکستان ایکسز،ایشیانیوجیوپالیٹکس"(چین پاکستان محور:ایشیاکی نئی جغرافیائی سیاست)میں یہی نکتہ اٹھایاگیاکہ1950کی دہائی میں بیجنگ کے خوابوں میں دہلی تھالیکن حقیقت کی بیداری نے اسے اسلام آبادکی طرف مائل کر دیا۔
1963میں پاکستان اورچین کے درمیان سرحدی معاہدہ طے پایا،جس کے تحت پاکستان نے چین کوشکسگم ویلی(تقریبا5,180مربع کلومیٹرعلاقہ)دیا،جوگلگت بلتستان اور سنکیانگ کے درمیان واقع ہے۔اس معاہدے نے جہاں چین کوایک محفوظ زمینی راستہ فراہم کیا وہاں پاکستان کوایک عظیم دوست طاقت کی قربت حاصل ہوگئی۔گویاجہاں پاک چین اشتراک کی بنیادیں استوارہوناشروع ہوگئیں وہاں یہ معاہدہ بھارت کیلئے چونکانے والاتھا۔اس وقت کی بھارتی حکومت نہ صرف اسے سفارتی جارحیت قراردیابلکہ پاکستان نیاس کو خطے میں ایک بڑی جغرافیائی تبدیلی کاآغازبھی قراردے دیااوریوں انڈیاکیلئے پاک چین دوستی ایک مشترکہ دشمن قرارٹھہری۔
1971کے بعداقوام متحدہ میں پاکستان نے چین کی نمائندگی کوتسلیم کروانے میں مرکزی کرداراداکیا۔1974میں جب بھارت نے ایٹمی دھماکہ کیا،چین نے نہ صرف اسے ’’عدم توازن‘‘قراردیابلکہ پاکستان کے خدشات کو’’جائز‘‘کہاجس کے بعدچین نے پاکستان کے جوہری پروگرام کی بھی بالواسطہ معاونت کی۔
کشمیرجہاں تین دیوتاؤں کے خواب ٹکراتے ہیں۔کشمیرکاتنازع ہمیشہ پاکستان اوربھارت کے درمیان کشیدگی کی بنیادسمجھاگیالیکن جغرافیائی حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ کشمیراب ایک سہ فریقی الجھن بن چکاہے اوراب چین بھی اس جھگڑے کاایک اہم فریق بن چکاہے۔ رونگ شنگ گوکے مطابق،کشمیرکا45.62فیصدحصہ بھارت،35.15فیصدپاکستان،اور 19.23فیصدچین کے زیرانتظام ہے۔مایرامیکڈونلڈاپنی کتاب’’وائٹ ایزدی شراڈ‘‘(کفن کی طرح سفید)میں لکھتی ہیں کہ اکسائی چن پربرطانوی سرحدی پالیسی کبھی واضح نہ تھی،اوریہ خطہ برطانوی نقشوں میں بھی مبہم حیثیت رکھتاتھا۔یہی ابہام آج بھی تینوں ممالک کے درمیان کشیدگی کاسبب ہے۔مایرا میکڈونلڈاوررونگ شِنگ گوجیسے ماہرین کی تحقیقات ہمیں بتاتی ہیں کہ کشمیرکاتنازع محض پاکستان اوربھارت تک محدودنہیں،بلکہ چین کی خطے میں موجودگی بھی اس کی جغرافیائی پیچیدگی کالازمی حصہ ہے۔
چین کے قبضے میں موجوداکسائی چن،بھارت کے دعوے کے مطابق لداخ کاحصہ ہے۔پاکستان کے زیرانتظام آزادکشمیراورگلگت بلتستان،بھارت کے نقشے میں ابھی تک اس کے دعوے کاحصہ ہیں،جبکہ چین اروناچل پردیش کو’’ژانگنان ‘‘یعنی جنوبی تبت کاحصہ گردانتاہے۔آئی ایس پی آرکے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری،اب کھلے عام کہتے ہیں کہ کشمیر’’تین ملکوں‘‘بھارت،پاکستان،اورچین کے درمیان ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے،جومسئلہ فلسطین کی طرح عالمی ضمیرکی آزمائش بھی ہے اوراس اعتراف نے بین الاقوامی منظرنامے میں ایک نیازاویہ پیداکردیاہے۔(جاری ہے)