صحافیوں کواپنا کوڈ آف کنڈکٹ بنانا ہوگا ، وی لاگ میں پرسنل ہونا نامناسب رویہ ہے:جسٹس جمال مندوخیل‘ہراساں کیس میں رپورٹ طلب
نمونیہ اور ہیپاٹائٹس ادویات فراہمی کیس میں ڈریپ سے رپورٹ طلب‘آئینی عدالت نے بھونگ انٹرچینج تعمیر از خود نوٹس کیس نمٹا دیا
اسلام آباد(آئی این پی ‘آن لائن) سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے ریمارکس دئیے ہیں تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام کیلئے جاسوسی کا نظام قائم کریں۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بنچ نے ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں منشیات فروشی کیخلاف درخواست پر سماعت کی۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ بتائیں منشیات کی روک تھام کیلئے اب تک کیا اقدامات کیے گئے؟ بلوچستان کے حوالے سے رپورٹ میں لکھا گیا ہے وہاں ہیروئن کا استعمال صفر ہے۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کیا ہیروئن پی کر ختم کر دی گئی ہے، پتہ نہیں رپورٹ میں کونسی ہیروئن کا ذکر کیا گیا ہے، بلوچستان کے حوالے سے پیش کی گئی رپورٹ پر مجھے خوشی بھی ہے اور حیرت بھی، کالجز میں بھی منشیات فروخت ہو رہی ہیں، منشیات سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ تو خیبرپختونخواہ ہے، وہ خاموش کیوں ہے؟جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اصل معاملہ ہے ہی خیبرپختونخوا اور بلوچستان کا ہے۔جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ تعلیمی اداروں میں اے این ایف کے مخبری کے نظام کے تحت جاسوسی کا نظام قائم کریں، سب سے زیادہ منشیات جیلوں میں سپلائی ہوتی ہے، سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے صحافیوں کوہراساں کرنے سے متعلق پریس ایسوسی ایشن سپریم کورٹ کی درخواست پر جاری کئے نوٹسز اور تحقیقات پر ایف آئی اے سے تفصیلی رپورٹ دس روزمیں رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔ ،جسٹس محمدعلی مظہرنے ہدایت کی کہ ایف آئی اے کے افسران کے دستخطوں کے ساتھ رپورٹ جمع کروائی جائے ،صرف زبانی کہنے سے مقدمہ ختم نہیں ہوگا،یوٹیوبربارے ا جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے ہیں صحافیوں کو بھی اپ اپنا کوڈ اف کنڈکٹ بنانا ہوگا ، وی لاگ کریں لیکن بات شائستگی سے کرنا ،صحافیوں کا پرسنل ہونا نامناسب رویہ ہے۔آئینی عدالت نے بھونگ انٹرچینج تعمیرازخود نوٹس کیس نمٹا دیا۔ آئینی بینچ نے نمونیہ اور ہیپاٹائٹس ادویات فراہمی کیس میں ڈرگ ریگولیٹر اتھارٹی سے رپورٹ طلب کرلی۔سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ جمع رپورٹ میں بتایا جائے کیا ادویات کی قلت کا معاملہ حل ہوگیا یا نہیں؟ ڈریپ رپورٹ آجائے تو پھرمعاملہ کو نمٹانے کا دیکھیں گے۔عدالتی معاون فیصل صدیقی نے عدالت سے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ ادویات قلت کا ایشو ابھی باقی ہے، اس پرجسٹس محمد علی مظہرنے کہا کہ ڈریپ کی رپورٹ آجائے پھردیکھ لیں گے۔