پاکستان کا انقلابی اقدام: بٹ کوائن مائننگ اور اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے 2 ہزار میگاواٹ بجلی مختص

پاکستان کا انقلابی اقدام: بٹ کوائن مائننگ اور اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے 2 ہزار میگاواٹ بجلی مختص

ویب ڈیسک: پاکستان نے ڈیجیٹل معیشت کی جانب ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے بٹ کوائن مائننگ اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) ڈیٹا سینٹرز کے لیے 2,000 میگاواٹ بجلی مختص کرنے کا اعلان کر دیا۔
یہ فیصلہ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں سامنے آیا ہے، جس میں اس اقدام کو قومی ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر منصوبے کا پہلا مرحلہ قرار دیا گیا ہے۔

 ڈیجیٹل ترقی کے سفر کا آغاز
حکومت پاکستان کی نئی حکمت عملی کے تحت:اضافی بجلی کو بٹ کوائن مائننگ اور جدید ٹیکنالوجی جیسے ڈیٹا سینٹرز میں استعمال کیا جائے گا۔اس اقدام کی نگرانی پاکستان کرپٹو کونسل کرے گی، جو منصوبے کی شفافیت اور کارکردگی کو یقینی بنائے گی۔
منصوبے کے بنیادی مقاصد
وزارت خزانہ کے مطابق، اس منصوبے کے ذریعے:غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا جائے گا۔ٹیکنالوجی سیکٹر میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

ملک کی معاشی ترقی اور ڈیجیٹل خودمختاری کو فروغ ملے گا۔
 ترجیحات میں تبدیلی: بٹ کوائن مائننگ اور اے آئی ڈیٹا سینٹرز کو فوقیت
حکومت نے واضح کیا ہے کہ:بٹ کوائن مائننگ اور ڈیٹا سینٹرز کی توانائی ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے گا۔ان جدید ٹیکنالوجیز کو قومی سلامتی، معلوماتی خودمختاری اور معاشی استحکام کا نیا ستون قرار دیا جا رہا ہے۔
 قومی خودمختاری اور جدید ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر
حکام کے مطابق:"یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان کو ڈیجیٹل طور پر خود کفیل بنائے گا بلکہ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی دوست ملک کے طور پر ہماری شناخت کو مضبوط کرے گا۔"
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر منصوبہ کامیابی سے ہمکنار ہوا تو پاکستان جنوبی ایشیا میں کرپٹو اور AI ٹیکنالوجی کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔