پلانٹ ملازم آصف کوکمپنی نے نوکری سے نکال دیا، فیصلہ بروقت نہ آنے پر دلبرداشتہ تھا،ہسپتال منتقل
چیف جسٹس کاسخت نوٹس، پولیس افسروں کی دوڑیں،ایس پی سکیورٹی تبدیل،ڈی ایس پی معطل
لاہور(کرائم رپورٹر)لاہورہائیکورٹ کے سینئرجج کی عدالت سے ایک شخص باہر آیا اور احاطہ ہائیکورٹ میں اس نے خود کو آگ لگالی ،موقع پر موجود اہلکاروں نے آگ بجھا کر زخمی کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا۔ شہری آگ لگانے کے بعد یہ کہتا رہا کہ اسے انصاف نہیں ملا ،اسے انصاف چاہیے۔ تفصیلات کے مطابق ہائیکورٹ کی احاطہ عدالت میں پیشی پر آئے شخص نے انصاف نہ ملنے پر خود کو آگ لگالی ،اس دوران ڈیوٹی پرموجود پولیس انسپکٹرعظمت بخاری، عقیل کانسٹیبل سمیت دیگر اہلکاروں نے اس پرپانی پھینکا اورچادرڈالی اور آگ بجھانے والے آلہ کی مدد سے آ گ پر قابو پالیا، اطلاع ملنے پر ریسکیو اہلکارفوراً طبی امداد کیلئے موقع پر پہنچ گئے اور زخمی کو فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا ،بتایا گیا ہے کہ خودسوزی کی کوشش کرنیوالے شخص کا نام آصف جاوید ہے اور ایک مشہوربرانڈ کی کمپنی کے کبیروالا پلانٹ میں ملازم تھا، کمپنی نے آصف سمیت متعدد ملازمین کو یونین سرگرمیوں پر نکال دیاتھا، بعد ازاں لیبرکورٹ نے ان ملازمین کو بحال کرکے واجبات کی ادائیگی کا حکم دیا ،اس فیصلے کو کمپنی نے ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ہوا ہے اور 5سال سے کیس زیرسماعت ہے،بروقت فیصلہ نہ ہونے پر آصف دلبرداشتہ ہوگیا تھا۔ عدالتی سماعت کے بعد احاطہ عدالت میں آصف جاوید نے خود پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا لی، خود سوزی کی کوشش کو ناکام بنانے والے پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ سائل پانی کی بوتل میں پٹرول لایا ،عدالتی راہداری سے نکلتے ہی اچانک لیٹر جلا کر خود کو آگ لگا دی ،موقع پر موجود پولیس اہلکار نے آگ بجھا کر خود سوزی کرنے والے شخص کو ہسپتال منتقل کر دیا ،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے واقعہ کا سخت نوٹس لیا تو پولیس افسروں کی دوڑیں لگ گئیں ،آئی جی پنجاب اور ڈی آئی جی آپریشن نے فوری ہائیکورٹ کا دورہ کرکے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا ،چیف جسٹس کے سخت نوٹس پر آئی جی پنجاب نے ایس پی سکیورٹی ہائیکورٹ خرم شہزاد کو تبدیل اور ڈی ایس پی سکیورٹی خالد ملک کو معطل کردیا۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ایڈیشنل رجسٹرار سکیورٹی سے بھی وضاحت طلب کرتے ہوئے قرار دیاکہ سکیورٹی کے اقدامات پر غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔