پاکستانی شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ لیلیٰ واسطی نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران اپنی زندگی کے ایک اہم اور دل کو چھو جانے والے تجربے کا انکشاف کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی زندگی کو ایک جرمن شخص نے بچایا، جو کہ ایک حیرت انگیز اور حوصلہ افزا کہانی ہے۔اداکارہ نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بطور مہمان شرکت کرتے ہوئے اپنی زندگی کے کٹھن لمحات اور کینسر سے لڑائی کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انہوں نے اپنی بیماری سے لڑتے ہوئے خون کے علاج کے لیے بون میرو ٹرانسپلانٹ کا سہارا لیا، جس کے لیے ضروری تھا کہ میچ کرنے والا ڈونر مل جائے۔ بون میرو کے لیے خون کے نمونے کا مخصوص ڈیزائن اور ڈی این اے کی مکمل میچنگ ضروری ہوتی ہے، جو کہ بہت مشکل اور نایاب ہوتی ہے۔لیلیٰ واسطی کے مطابق، ان کے کیس میں ان کے خاندان اور قریبی دوستوں میں سے کسی کا بھی بون میرو میچ نہیں ہوا، جو کہ عام طور پر زیادہ تر خاندان میں سے کسی ایک کا ہوتا ہے۔ اس کے باوجود، انہیں حیرت انگیز طور پر 19 مختلف ڈونرز سے بون میرو ملے، جو کہ ایک غیر معمولی اور خوش نصیب واقعہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ ڈونرز مختلف ممالک سے تھے اور ان کی مدد سے ان کی زندگی بچائی جا سکی۔اداکارہ نے یہ بھی بتایا کہ اگر اہلِ خانہ یا قریبی دوستوں میں سے کوئی بھی میچ نہ کرتا، تو انہیں بہت مشکل کا سامنا ہوتا، کیونکہ ڈونر کی تلاش کئی برسوں پر محیط ہو سکتی تھی اور پھر بھی میچنگ بون میرو دستیاب ہونا ایک چیلنج ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے لیے یہ سب کچھ ایک معجزہ تھا، اور ان کی زندگی کو بچانے میں ایک جرمن ڈونر کا کردار انتہائی اہم رہا۔لیلیٰ واسطی نے اپنی کہانی کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ صحت کا خیال رکھنا اور ضرورت پڑنے پر خون کے عطیات دینا بہت ضروری ہے، کیونکہ یہ کئی زندگیاں بچانے کا سبب بن سکتا ہے۔ ان کا یہ انکشاف نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے بلکہ لوگوں میں آگاہی بھی پھیلاتا ہے کہ ڈونر بننا ایک انسانیت سے محبت کرنے والا عمل ہے۔