بعض رہنماؤں کے موبائل بند ، لانگ مارچ کیلئے کارکنوں کو چھوٹے گروپوں میں سفر کرنے کی ہدایت
لاہور(کرائم رپورٹر) 27 ستمبر کو پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج اور اسلام آباد مارچ کی کال کے پیش نظر لاہورپو لیس نیمتحرک کارکنوں اور مقامی رہنماؤں کی فہرستیں مرتب کرکے مزید کارروائیوں کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ پولیس کی جانب سے ان افراد کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا رہی ہے جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ 27 ستمبر کے احتجاج یا اسلام آباد مارچ میں شرکت کے لیے کارکنوں کو متحرک کر سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے لاہور سمیت پنجاب کے کارکنوں کو جلد از جلد اسلام آباد مارچ میں شامل ہونے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، جبکہ پنجاب سے پارٹی کے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو خیبر پختونخوا پہنچنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب سے متعدد اراکین اسمبلی خیبر پختونخوا پہنچ چکے ہیں، جبکہ بعض رہنما گرفتاریوں کے خدشے کے باعث روپوش ہو گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق پنجاب سے پی ٹی آئی کے کارکنان، عہدیداران اور اراکین اسمبلی بڑے قافلے یا ریلی کی صورت میں اسلام آباد روانہ نہیں ہوں گے۔ پارٹی کی مقامی سطح پر یہ حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے کہ سخت متحرک کارکنان اور رہنما چار یا اس سے کم افراد کے گروپوں کی شکل میں اسلام آباد پہنچیں، تاکہ پنجاب میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے باعث قانونی کارروائی سے بچا جا سکیدوسری جانب پی ٹی آئی کی مقامی قیادت اور متعدد رہنماؤں کے روپوش ہونے کی اطلاعات ہیں ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں نے گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر اپنے ٹیلی فون نمبرز بھی بند کر دیے ہیں۔ مقامی قیادت کی جانب سے کارکنوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بڑے اجتماعات، ٹولیوں یا ریلی کی شکل میں اسلام آباد جانے سے گریز کریں اور چھوٹے گروپوں میں سفر کریں پارٹی کی مقامی قیادت کی حکمت عملی کے باعث پی ٹی آئی کے بعض کارکن اس تمام صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ نہیں ہیں۔ مقامی سطح پر کارکنوں کو احتجاج میں شرکت، گرفتاریوں سے بچاؤ اور اسلام آباد پہنچنے کے حوالے سے مختلف ہدایات دی جا رہی ہیں، جبکہ پولیس کی جانب سے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر نگرانی اور کارروائیاں جاری ہیں۔پولیس کے مطابق قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے گی، جبکہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی اور انتظامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔