پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان استنبول میں مذاکرات کا دوسرا دور جاری، دہشت گردی کے خلاف کارروائی پر زور

پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان استنبول میں مذاکرات کا دوسرا دور جاری، دہشت گردی کے خلاف کارروائی پر زور

پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور استنبول میں ہو رہا ہے، جس کا مقصد افغانستان سے دہشت گرد گروہوں کے خلاف قابل تصدیق کارروائی کا مطالبہ کرنا ہے۔

 یہ مذاکرات دوحہ میں ہونے والے پہلے دور کے بعد کا فالو اپ ہیں، جہاں جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے اور اس کے نتیجے میں پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ہے۔مذاکرات کا بنیادی مقصد افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کو روکنا ہے۔ پاکستان طالبان سے خاص طور پر قتنۃ الخوارج، قتنۃ الہندوستان، اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرے گا۔ اس کے علاوہ، پاکستان استنبول میں ہونے والی نشست میں ان گروہوں کے خلاف قابل تصدیق کارروائی کا بھی زور دے گا۔دوحہ مذاکرات میں بھی پاکستان اور طالبان کے درمیان سنجیدگی کا مظاہرہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں جنگ بندی عمل میں آئی اور بڑے دہشت گرد واقعات میں کمی دیکھی گئی۔

ان مذاکرات کے نتیجے میں ایک معاہدہ بھی ہوا تھا، جس پر دستخط ہوئے، لیکن افغان طالبان رہنماؤں کی جانب سے اسے "تحریری معاہدہ" کہنے سے انکار کیا گیا ہے، جس کی قانونی حیثیت پر مختلف آراء ہیں۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی روابط بھی اس کشیدگی کے سبب معطل ہیں۔ دونوں ممالک کے بیچ 8 سرحدی راستے ہیں، جنہیں حالیہ کشیدگی کے باعث بند کیا گیا ہے۔ ذاکرات کا مقصد افغانستان میں امن و امان قائم کرنا اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی کو یقینی بنانا ہے تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔