نازیہ آصف
یہ کہنا کہ’’بچے ہمارا مستقبل ہیں‘‘۔کہنے کو چھوٹا سا فقرہ ہے مگر اس میں چھپی گہرائی کا اندازہ اس چھوٹے سے فقرے سے لگا لیجئیے کہ انگریزوں نے جب سپین پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی تو اپنا ایک جاسوس جائزہ لینے کے لئے سپین بھیجا۔اس کی ملاقات ایک بچی سے ہوئی جو غلیل پکڑے پریشان کھڑی تھی کہ میرا نشانہ خطا کیوں کر ہوا جب کہ پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔
جاسوس نے فوراجا کر اپنے کرتا دھرتا کو بتایا کہ، یہ وقت حملے کے لئے نا مناسب ہے۔ کچھ سال گزر ے تو وہی جاسوس اسی مقصد کے لئے پھرآیا۔ اس کی ملاقات ساحل پر کھڑے ایک رنجیدہ نوجوان سے ہوئی جس کے ہاتھ میں پھول تھا۔اسے اس کے پوچھنے پر بتایا کہ اس کی محبوبہ نے اس سے ملنے آنا تھا اب چار گھنٹے گزر گئے ہیں وہ ابھی تک نہیں آئی۔جاسوس نے واپس جا کر اکابرین کو رپورٹ دی کہ فورا حملہ کریں۔
قارئین!چھوٹا سا واقعہ ہے۔مگر ایک قوم کے رحجان کا آئینہ دار ہے۔دشمن حملہ وہیں سے کرتا ہے جہاں ہماری دفاعی لائن کمزور ہوتی ہے۔خوش قسمتی سے ہمارے ہاں نوجوانوں کی اکثریت ہے۔مگر کیا صحیح راہ پر گامزن بھی ہیں اور ہم والدین ہونے کے ناطے کیااپنا فرض ادا کربھی رہے ہیں کہ نہیں۔
حدیث مبارکہ ہے ’’کہ اپنی اولادکواچھے آداب سکھانا،ایک صاع صدقہ کرنے سے افضل ہے۔‘‘
ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا ’’ہربچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے۔اس کے والدین آبائی (باپ،دادا)ہیں جو اسے مجوسی یا عیسائی بناتے ہیں‘‘
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ہر بچہ پاک صاف فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ماحول وتربیت اسے بناتا یا بگاڑتا ہے۔یوں سمجھ لیں کہ بچہ ایک گوندھی ہوئی مٹی کی صورت میں آپ کے ہاتھ میں دیاگیا۔اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اسے کیا شکل دیتے ہیں۔ اس بات کو اس طرح سمجھیں کہ کچھ سال پہلے ہمارے ملک میں کئی بچے خود کش بمباروں کی صورت میں پھٹتے رہے۔قارئین سوچئیے!کہ یہ بچے کون تھے؟کہاں سے آئے تھے؟کیا وہ پیدائشی خود کش بمبار تھے؟نہیں،وہ بچے معصوم تھے اور کچھ ناعاقبت اندیشوں کے ہتھے چڑھ گئے۔جنھوں نے اپنے مفادات کے لئے انھیں استعمال کیااور ان کی ذہن سازی اس طرح سے کی گئی کہ معصوم انسانوں کاقتل انھیں جنت میں لے جانے کا واحد ذریعہ لگنے لگا۔
دوسری مثال اس طرح ہے کہ کئی بچے جو ہمیں ہر چوک اور ہسپتال کے سامنے ہاتھ پھیلائے ’’اللہ کے نام پر دے دو بابا‘‘کا راگ الاپتے نظر آتے ہیں۔پوچھنے پر بتاتے ہیں کہ،’’باپ مر گیا،ماں بیمار ہے۔‘‘جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔اس میں بچوں کا قصور نہیں بلکہ ان کی ذہن سازی اصل کمال ہے۔جو اس انداز سے کی جاتی ہے کہ ان کے نزدیک جھوٹ بولنا یا ہاتھ پھیلانا گناہ نہیں ہے۔عصر حاضر میں ذہن سازی کا سارا کمال ہے ، بین الاقوامی سطح پر بھی دیکھیں تو آج کی عوام ٹھوس حقائق کو کم جبکہ سوشل میڈیا پہ کی گء ذہن سازی کو زیادہ اہمیت دیتی ہے ، آج کا نوجوان بھی وہ دیکھتا ہے جو اسے میڈیا کے ذریعے فیڈ کیا جاتا ہے جبکہ وہ والدین کی بات کو اتنی اہمیت نہیں دیتا۔
ایسے کڑے وقت میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بچوں کی تربیت کیسے کی جائے؟
تربیت کی دو اقسام ہیں۔ ذہنی تربیت جسمانی تربیت
بچے کی تربیت اس کی دنیا میں آنے سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے۔ماں کی صحت،سوچ،رویہ،ماحول سب اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ماں صحت مند ہو گی تو بچہ بھی صحت مند ہوگا۔اب اس کی جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ذہنی تربیت بھی شروع ہو گی۔حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی ’’میرے بیٹے!اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا‘‘
یعنی تربیت کا آغاز توحید کے تصور سے کروایا جائے کیونکہ اس کے عقائد ٹھیک ہوں گے تو اس کے افکار و اعمال بھی ٹھیک ہوں گے۔
بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز کا نہ صرف پابند بنایا جائے، بلکہ ساتھ ساتھ اسے نماز کی اصل روح سے آشناس بھی کروایا جائے۔ پھر دوسرے عملی و اخلاقی عقائد و اعمال پر عمل کا عملی نمونہ پیش کیا جائے۔ اس سلسلے میں بابا فرید گنج شکرکا یہ واقعہ مشعل راہ ہے۔آپ کی والدہ محترمہ آپ کو نماز کا پابند بنانے کے لئے کاغذ میں شکر لپیٹ کر جائے تماز کے نیچے رکھ دیتیں کہ وہ نماز کے بعد اس کو تحفہ خدا وندی سمجھ کر قبول کر لیں۔اس طرح وہ نماز کی طرف راغب ہونے لگے توایک دن ان کی والدہ محترمہ جائے نماز کے نیچے شکر رکھنا بھول گئیں۔ان کو بہت دکھ ہوا کہ جب آپ نیچے دیکھیں گے تو وہاں اگر شکر موجود نہ ہوئی تو آپ کے عقیدے میں فرق نہ آ جائے۔لیکن بحکم خدا وہاں شکر موجود تھی۔یہ ایک ماں کی نیک کاوش کے لئے اجر خداوندی تھا۔
حدیث مبارکہ ہے ’’اپنی اولاد کو اچھے آداب سکھانا،ایک صاع (پیمانہ)صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔‘‘
انسان کی نیک اولاد اس کے لئے صدقہ جاریہ ہے اولاد انسان کے پاس اللہ پاک کی امانت ہے۔اس لئے اس کا فرض ہے کہ وہ اس امانت کو بہترین طریقے سے اسے واپس لوٹائے ارشاد باری تعالی ہے: ’’کہ اپنی اولاد کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھرہیں‘‘
ایک اور جگہ فرمایا: ’’یہ بہت بڑا گناہ ہے کہ انسان جن کا ذمہ دار اور رکھوالا ہے انھیں ضائع کر دے ان کی تربیت نہ کرے‘‘
صاحب اولاد انسان کی پہلی ذمہ داری ہی اولاد کی بہترین تربیت ہے اور یہ اس کے لئے بہترین تحفہ ہے۔اولاد کی تربیت سے غافل ہو جانا اپنے مستقبل سے غافل ہونا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم کس حد تک اپنے فرائض سے عہدہ برا ہو رہے ہیں؟بچوں کے سامنے ان کے والدین ان کے اولین ماڈل ہوتے ہیں۔وہ انھیں دیکھتے اور فالو کرتے ہیں۔ اس لئے کردار سازی میں پہلے والدین کاعمل موثر ترین ہونا
چاہئیے۔کیونکہ بچے وہ کریں گے جو ان کے والدین کریں گے۔وہ نہیں جو کہیں گے۔اس لئے والدین کو چاہئیے کہ وہ اپنا کردار واضح کریں۔ان کے کردار میں ایک متانت،سنجیدگی اوروقار،جبکہ گفتگو میں ادب اور شائستگی کا ہونا ضروری ہے۔دوسرے الفاظ میں والدین کے کردار میں بچوں کا کردار واضح ہونا چاہئیے کہ بچے والدین کا عکس ہوتے ہیں۔
امام خمینی فرماتے ہیں:
’’عورت انسان کی خوش بختی کا نقط آغاز ہے۔‘‘
بچے کی پہلی تربیت گاہ ماں کی گود ہے۔نپولین نے کہا: ’’آپ مجھے اچھی مائیں دو میں آپ کو اچھی قوم دوں گا۔‘‘یعنی کہ ماں کا کردار بچوں کی تربیت میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔اسلام نے ماں کو بہت اعلی مقام دیا ہے۔یہ ماں ہی ہے جو بچے کو حق و باطل،سیاہ اور سفیدمیں فرق کر نا سکھاتی ہے۔مگر کیا موجودہ ماحول میں ماں یہ رول ادا کر رہی ہے؟کیا وہ مائیں جو بچوں کو کلمہ سکھاتیں اور لوری سنا کر سلاتی تھیں وہ اب موجود ہیں؟مگر یہ ایک جز ہے دوسرا جز باپ کا رزق حلال کھلانا بھی ہے۔اگر باپ اپنی اولاد کی پرورش رزق حلال سے نہیں کر رہا تووہ کیونکر ان سے اچھی توقعات کر سکتا ہے۔یہ ایک بگاڑ ہے جو پیدا ہو رہا ہے۔جس کی وجہ دین سے دوری ہے۔حرام و حلال میں تمیز کا ختم ہونا ہے۔
انسان جب تک بچہ ہے۔۔۔۔۔تب تک سمجھو سچا ہے۔
آخر میں چند باتیں ہیں۔جو والدین کے گوش گذارکرنا چا ہوں گی کہ بچوں کے جذبات کو قبول کریں۔ کسی بات کے اظہار کے لئے وہ کیسا رویہ اختیار کرتے ہیں،چیختے چلاتے ہیں،التجائیہ انداز اپناتے ہیں یا پھر اپنی ضروریات کا اظہار ہی نہیں کرتے۔اگر وہ غصہ کرتے ہیں تو خوش دلی سے قبول کریں کہ غصہ ایک رویہ ہے اور یہ بات کرنے کا ایک طریقہ ہے۔والدین کا فرض ہے کہ وہ اس رویے کے پیچھے چھپے عنصر کو تلاش کریں اور اس کا بہترین حل نکالیں۔والدین کا بچوں کے ساتھ برتاؤ ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔جو آگے چل کر وہی کچھ دیتے ہیں جو انھیں والدین سے ملتا ہے۔ بڑوں کی نسبت محبت و شفقت کی بھوک بچوں میں زیادہ ہوتی ہے اور اگر یہی ضرورت اگر بچوں کی مناسب طریقے سے پوری نہ ہو تو وہ گھر سے باہر تلاش کرنے لگ جاتے ہیں۔پھر جس کے نتائج اکثر بھیانک صورت میں نکلتے ہیں۔ موجودہ دور میں ہم اس کی بڑی وجہ موبائل اور نیٹ کو سونپ کر خود بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔بھئی!اگر بچہ آپ کا ہے اور موبائل یا نیٹ ورک کمپنیوں کا نہیں تو اس کی حفاظت بھی آپ نے کرنی ہے نا کہ کمپنیوں نے۔ کسی بھی ایجاد کے دونوں پہلو ہوتے ہیں۔منفی اور مثبت۔اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اپنے بچوں کو کیا سکھاتے ہیں؟آخر میں یہ کہنا چاہوں گی کہ یہ تحفظ بچوں کی بنیادی ضرورت ہے۔بچے کو بچہ ہی سمجھیں۔پیار ضرور دیں مگراس پر کڑی نظربھی رکھیں۔شرارتوں میں بچوں کی زندگی کا ارتقاء پنہاں ہے۔انھیں بات بات پر ٹوکنا
،جھڑکنایا دوسرے بچوں سے مقابلہ کرنا درست نہیں۔اگر اس میں کوئی خامی ہے تو اس میں خوبیاں بھی ہیں۔اس کی خوبیاں سب کے سامنے اور خامیاں تنہائی میں سدھاریں۔فرمان نبوی ہے: ’’اپنی اولاد کے ساتھ نرمی برتو اور ان کی بہتر طور پر تربیت کرو‘‘
علامہ اقبال نے فرمایا:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ