تحریر:ثمر عباس لنگاہ
قارئین! نعت، ایک ایسا مقدس عمل ہے جسے سن کر دل عشقِ رسول میں جھوم اٹھتا تھا، آنکھیں اشکبار ہو جاتی تھیں اور روح میں ایک سکون سا اتر آتا تھا۔ یہ مدحِ رسول کی وہ روایت ہے جس کی بنیاد خود رسول اللہ کے عہدِ مبارک میں رکھی گئی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کی شان میں اشعار پڑھتے اور آپ ان اشعار کو سن کر نہ صرف مسکراتے بلکہ ان کی تائید بھی فرماتے۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے اشعار کو حضور نے "اللہ کے فرشتے تمہاری مدد کریں" کے الفاظ سے نوازا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نعت کی روایت کس قدر عظیم اور مبارک ہے۔
ایک وقت تھا جب نعت خوانی خالصتاً عبادت اور عشقِ رسول کا اظہار سمجھی جاتی تھی۔ یہ عشقِ رسول کی گواہی تھی، دل کی گہرائیوں سے نکلا ہوا ایک نغمہ جو سماعتوں میں رس گھول دیتا تھا۔ محافلِ میلاد میں شرکت کا مقصد محض روحانی سکون اور محبت رسول کو بڑھانا ہوتا تھا۔ ایسے وقتوں میں نعت پڑھنے اور سننے والے دونوں کی نیت خالص ہوتی تھی اور ہر لفظ دل کی گہرائیوں میں اترتا تھا۔
مگر آج کا منظرنامہ دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ وہ محافل، جنہیں عبادت گاہ کا سا سکون دینا چاہیے تھا، آج دنیا داری اور نمائش میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ نعت خوانی کا عمل، جو عشقِ رسول کا ایک پاکیزہ اظہار تھا، اب محض کاروبار بن کر رہ گیا ہے۔
قارئین! ذرا سوچیے۔۔۔ کیا آج ہم وہی نعت پڑھ اور سن رہے ہیں جو عشقِ رسول کی روح کو بیان کرتی تھی؟
نعت خوانی کی موجودہ شکل کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس کے مقدس لباس پر دنیاوی نمائش، شہرت اور پیسے کی گرد پڑ چکی ہو۔ نعت خوانی کی محفلیں جو کبھی نورانی اجالے سے بھرپور ہوتی تھیں، اب رنگین روشنیوں، مصنوعی ساز و سامان اور بعض اوقات موسیقی جیسے آلات سے آلودہ ہو چکی ہیں۔
پہلے دور میں نعت کی محفلوں میں عقیدت مند جھک کر بیٹھتے تھے۔ ان کے سر جھکے ہوتے، دل گداز ہوتے۔ لیکن اب، ان محفلوں میں دکھاواہوتا ہے‘بعض نعت خوان اپنی فیسیں لاکھوں میں وصول کرتے ہیں اور ان کا رویہ دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے وہ دین کے نہیں، دنیا کے سفیر ہیں۔
یہ سوال ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ہمیں نعت خوانی کو اس کے حقیقی معنوں میں بحال کرنا ہوگا اور یہ تبھی ممکن ہے جب علمائے کرام، نعت خوان اور عوام سب اپنی اپنی ذمہ داری کو سمجھیں۔
ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ نعت پڑھنا اور سننا عبادت کا حصہ ہے اور عبادت میں خلوص اور خشوع بنیادی شرط ہے۔ اگر یہ شرط پوری نہ ہو، تو عمل
محض رسم بن کر رہ جاتا ہے۔ آئیے۔۔۔ عہد کیجیے کہ ہم سب مل کر اس مقدس عمل کو اس کے اصل مقام پر واپس لے جائیں گے اور نعت خوانی کی پاکیزگی کو بحال کریں گے۔
مگر یاد رکھیے، تبدیلی راتوں رات نہیں آتی بلکہ وقت لگتا ہے۔۔۔
(ثمر عباس لنگاہ)