نعت سے نصیب تک

سکینہ شاہین خان
کچھ لمحے زندگی میں ایسے آتے ہیں جو وقت کی گرد میں دب نہیں پاتے بلکہ یادوں کے دریچوں میں چراغ بن کر جلتے رہتے ہیں۔ میرے لیے ایسا ہی ایک لمحہ وہ تھا جب میں رکن پنجاب اسمبلی کی حیثیت سے لاہور میں مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے گھر منعقد ہونے والی خواتین کی محفل میلاد میں شریک تھی۔ یہ کوئی عام سیاسی یا سماجی تقریب نہ تھی بلکہ ایک ایسی روحانی محفل تھی جس میں دنیاوی شناختیں مٹ جاتیں اور صرف ایک پہچان باقی رہتی تھی کہ ہم سب حضور نبی کریم کے امتی ہیں۔ خواجہ سعد رفیق کی اہلیہ اس قسم کی محافل کا بہت اہتمام کرتی تھیں۔ گھر کے در و دیوار عود اور گلاب کی خوشبو سے مہک رہے تھے، قالین پر بیٹھے لوگ درود و سلام کی لڑیوں میں جڑے ہوئے تھے اور فضا میں ایک خاموش سی عقیدت تیر رہی تھی۔اسی عالم میں دروازہ کھلا اور بیگم کلثوم نواز کے ساتھ مریم نواز محفل میں داخل ہوئیں۔ یکایک بہت سے لوگ احتراماً کھڑے ہو گئے مگر میں اپنی جگہ بیٹھی رہی، اس لیے نہیں کہ دل میں کسی قسم کی بے ادبی تھی بلکہ اس لیے کہ اس لمحے میں ایک اور ہی کیفیت میں تھی۔ سر جھکا ہوا تھا، دل مدینے میں تھا اور مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ اس وقت کسی انسان کے احترام میں کھڑا ہونا میرے اندر کی اس حاضری کو توڑ دے گا جو میں نبی کریم کی بارگاہ میں محسوس کر رہی تھی۔ میں نے دیکھا کہ بیگم کلثوم نہایت شفقت اور وقار کے ساتھ سب سے مل رہی تھیں اور مریم خاموشی سے ان کے ساتھ کھڑی تھیں۔ ان کے چہرے پر کوئی سیاسی تکلف نہیں بلکہ ایک طالب علمانہ حیا تھی، جیسے وہ خود کو اس محفل کا ادنیٰ سا حصہ سمجھ رہی ہوں۔کچھ دیر بعد نعت خوانی کا وقت آیا اور مریم نواز سے درخواست کی گئی کہ وہ نعت پڑھیں۔ اس لمحے پورا ہال جیسے ساکت ہو گیا۔ انہوں نے خالد محمود خالد نقشبندی کی وہ نعت پڑھی جس کے بول آج بھی میرے دل میں گونجتے ہیں۔

یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے جھولی میں اگر ٹکڑے تمہارے نہیں ہوتے۔

 جب تک کہ مدینے سے اشارے نہیں ہوتے۔ 
روشن کبھی قسمت کے ستارے نہیں ہوتے۔ 

مریم نواز کی آواز میں ایک عجیب سی لرزش تھی مگر وہ کمزوری نہیں تھی، وہ عشق تھا، وہ عاجزی تھی، وہ دل کا کانپنا تھا جو محبوب کی دہلیز پر ہوتا ہے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ نعت نہیں پڑھ رہیں بلکہ اپنے دل کی ساری سچائی لفظوں میں رکھ رہی ہوں۔ بہت سی آنکھیں نم ہو گئیں اور محفل میں ایک ایسی خاموشی اتر آئی جو صرف روحانیت کے لمحوں میں ہوتی ہے۔نعت ختم ہوئی تو درود و سلام کی صدائیں بلند ہوئیں اور محفل کو واقعی چار چاند لگ گئے۔ اس کے بعد میں اٹھی اور بیگم کلثوم کے پاس گئی اور انہیں سلام کیا اور پھر مریم نواز سے مخاطب ہو کر کہا کہ یہ واحد مقام ہے جہاں مجھے بھی اپنا ہوش نہیں رہتا، میں محفل میں سر جھکا کر بیٹھی رہتی ہوں، آپ نے آج بہت خوبصورت نعت پڑھی ہے، یاد رکھنا اللہ تم سے ایک دن بہت بڑا کام لے گا جس کا تعلق انسانیت کی خدمت اور دین اسلام سے ہو گا۔ مریم نے خاموشی سے مسکرا کر سر جھکا لیا، اس مسکراہٹ میں غرور نہیں بلکہ شکر تھا۔وقت اپنی رفتار سے چلتا رہا، سال گزرتے گئے، حالات بدلے، سیاست کے موسم آئے گئے مگر وہ لمحہ میرے دل میں محفوظ رہا۔ اور پھر ایک دن میں داتا دربار علی ہجویری کے مزار کے سامنے کھڑی تھی تو وہی محفل آنکھوں کے سامنے آ گئی۔ یہ در صرف ایک مزار نہیں بلکہ لاکھوں دلوں کی امید ہے۔ یہاں آنے والا ہر شخص کسی نہ کسی دکھ کے ساتھ آتا ہے اور دعا لے کر لوٹتا ہے۔ ایسے مقام کی خدمت ہر کسی کے حصے میں نہیں آتی، یہ اللہ کی خاص عطا ہوتی ہے۔پنجاب میں کتنے ہی وزیر اعلیٰ آئے، کتنے ہی وزیر اعظم گزرے، میاں نواز شریف، شہباز شریف، بے نظیر بھٹو، پرویز مشرف، عمران خان، سب نے اپنے اپنے دور میں حکومت کی مگر اس عظیم روحانی امانت کی خدمت کا کام اللہ نے مریم نواز سے ہی لیا۔ داتا دربار کی توسیع اور اس کے وقار کو بحال کرنا کوئی عام ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ اولیاء￿  اللہ کے در کی خدمت ہے۔ یہ وہی مریم ہے جس نے برسوں پہلے نعت میں کہا تھا کہ جب تک مدینے سے اشارے نہیں ہوتے قسمت کے ستارے روشن نہیں ہوتے، اور آج اس کی قسمت کے ستارے واقعی روشن ہو چکے ہیں۔آج داتا دربار کا وسیع صحن، صاف ستھرے راستے، زائرین کے لیے سہولتیں اور خواتین کے لیے باوقار انتظام یہ سب بتاتا ہے کہ یہ اینٹوں اور سیمنٹ کا منصوبہ نہیں بلکہ دل کی عقیدت کا اظہار ہے۔ یہ اس عشق رسول کا صلہ ہے جو برسوں پہلے ایک نعت کی صورت میں اس کے دل سے نکلا تھا۔آج پنجاب کی ترقی کی رفتار پورے پاکستان کے لیے ایک مثال بن چکی ہے۔ سڑکیں، ہسپتال، تعلیمی ادارے، فلاحی منصوبے اور شہری سہولتیں اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ پنجاب ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ ملک کے باقی صوبے اپنی جگہ مگر ترقی کے اس سفر میں پنجاب بہت آگے نکل چکا ہے، اور اس کی سب سے بڑی دلیل وہ عظیم روحانی خدمت ہے جو علی ہجویری کے در سے جڑ کر تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔یہ محض تعمیر نہیں بلکہ عقیدت کی وہ داستان ہے جو وقت کے ساتھ ماند نہیں پڑے گی۔ صدیاں بیت جائیں گی، حکومتیں بدل جائیں گی، مگر اس در کی یہ خدمت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی، کیونکہ اولیاء￿  اللہ کے آستانوں کی خدمت اللہ اپنے چنے ہوئے بندوں سے ہی لیتا ہے۔مریم نواز آج پنجاب کی وزیر اعلیٰ ہیں مگر ان کے فیصلوں میں وہی عاجزی جھلکتی ہے جو اس دن نعت پڑھتے وقت تھی۔ پنجاب کی ترقی ہو یا غریبوں کی خدمت، تعلیم ہو یا صحت، ہر جگہ ایک بات نمایاں ہے کہ یہ اقتدار نہیں بلکہ امانت ہے۔ یہی نعت سے نصیب تک کا اصل سفر ہے کہ جو نبی کی چوکھٹ سے جڑ جائے، اللہ اس کے مقدر کو دنیا اور تاریخ دونوں میں روشن کر دیتا ہے۔

کالم نگار۔ سابق ممبر پنجاب اسمبلی سکینہ شاہین خان۔