ایران نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات میں متعدد اہم نکات پر پیش رفت اور اتفاق رائے ہو چکا ہے، تاہم کسی حتمی معاہدے پر فوری دستخط کا امکان موجود نہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ مذاکرات کے بیشتر معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ معاہدہ فوری طور پر طے پا جائے گا۔ان کے مطابق اس وقت بات چیت کا بنیادی مقصد کشیدگی اور جنگ کے خطرات کو کم کرنا ہے، جبکہ جوہری پروگرام کے تفصیلی نکات پر فی الحال جامع مذاکرات نہیں ہو رہے۔ترجمان نے کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور کسی دباؤ یا دھمکی کو خاطر میں نہیں لاتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کی جانب سے معاہدے پر مکمل عملدرآمد کی کوئی واضح ضمانت موجود نہیں۔اسماعیل بقائی کے مطابق حالیہ ہفتوں میں مذاکرات میں پیش رفت بعض ممالک، جن میں پاکستان بھی شامل ہے، کی سفارتی کوششوں کے باعث ممکن ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مذاکرات میں خطے کی صورتحال، خصوصاً لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگ بندی سے متعلق نکات بھی زیر بحث آئے ہیں۔آبنائے ہرمز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ ایک اہم بحری راستہ ہے اور اس کا انتظام ساحلی ممالک کا حق ہے، تاہم ایران سروسز کے بدلے مناسب فیس وصول کر سکتا ہے۔ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ایران خطے میں بحری سلامتی اور تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے علاقائی ممالک سے مسلسل رابطے میں ہے۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اسرائیل ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے اور کسی بھی ممکنہ معاہدے کو متاثر کرنے کے لیے سرگرم ہے۔