اٹلی میں پاکستانی باکسر اور کوچ کے کمرے سے رقم اور پاسپورٹ چوری کے واقعے کے بعد پاکستان سپورٹس بورڈ کی جانب سے پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے سابق صدر خالد محمود اور دیگر افراد پر لگائی گئی تاحیات پابندی اور 10 لاکھ روپے جرمانہ کا آرڈر اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کر دیا ہے۔
عدالتی حکم کی تفصیلات:
عدالت نے کیس کو پاکستان سپورٹس بورڈ کے پینل ایڈجوڈیکیٹر کو واپس بھیج دیا۔عدالت نے ہدایت دی کہ پینل تمام فریقین کو سنے اور بغیر کسی دباؤ یا اثر کے قانون کے مطابق فیصلہ دے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ پٹیشنرز کے خلاف لگائی گئی تاحیات پابندی اور جرمانہ کا آرڈر عبوری طور پر معطل رہے گا۔رٹ پٹیشن اب باقاعدہ طور پر پینل کے سامنے التواء میں تصور ہو گی۔عدالت نے مزید کہا:“پاکستان سپورٹس بورڈ شفافیت اور فئیر ٹرائل کے تمام تقاضے پورے کرے گا، اور پینل کا فیصلہ مکمل طور پر تسلیم اور نافذ کیا جائے گا۔”
پس منظر: اٹلی میں پیش آنے والا واقعہ
29 فروری 2024 کو نیشنل باکسنگ اسکواڈ میں ذوہیب رشید کو شامل کیا گیا۔3 مارچ 2024 کو پاکستان باکسنگ فیڈریشن کو ایک رپورٹ موصول ہوئی، جس میں کہا گیا کہ:ذوہیب رشید نے مبینہ طور پر دھوکہ دہی سے برطانوی نژاد پاکستانی باکسر لورا اکرم کے کمرے کی چابی حاصل کی۔اس نے باکسر اور کوچ کے پیسے اور پاسپورٹ چوری کیے اور غائب ہو گیا۔یہ واقعہ اٹلی کی پولیس کو رپورٹ کیا گیا، جہاں تحقیقات جاری ہیں۔
پاکستان سپورٹس بورڈ کی کارروائی
مذکورہ واقعے کی بنیاد پر پاکستان سپورٹس بورڈ نے:ایک داخلی انکوائری شروع کی۔خالد محمود اور دیگر افراد کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ان پر تاحیات کسی بھی اسپورٹس پوزیشن پر تعیناتی پر پابندی عائد کی۔
اور 10 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا۔تاہم، درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ:"ہمیں بغیر مؤثر صفائی کا موقع دیے سزا سنائی گئی۔"