دیا مرزا نے مودی کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا

دیا مرزا نے مودی کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے معاملے پر جاری تنازع کے درمیان بالی ووڈ اداکارہ دیا مرزا نے وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

نئی دہلی کے جنتر منتر سمیت مختلف مقامات پر طلبہ کی جانب سے مسلسل احتجاج کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا تھا، جس میں انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت امتحانات میں بے ضابطگیوں کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔وزیراعظم مودی نے اپنے بیان میں کہا کہ پیپر لیک کا معاملہ لاکھوں طلبہ اور والدین کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت طلبہ کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور ایسے معاملات میں ملوث افراد کو کسی صورت بخشا نہیں جائے گا۔ حکومت نے ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔تاہم وزیراعظم کے اس بیان پر اداکارہ دیا مرزا نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ردعمل بہت دیر سے آیا اور اس میں متاثرہ طلبہ اور والدین کے درد کا مناسب ذکر نہیں کیا گیا۔دیا مرزا نے انسٹاگرام پر ایک نوٹ شیئر کیا، جس کے ساتھ انہوں نے ٹوٹے ہوئے دل کا ایموجی بھی لگایا۔ انہوں نے لکھا کہ ان والدین کے لیے ہمدردی کا ایک لفظ بھی نہیں کہا گیا جنہوں نے اپنے بچوں کو کھو دیا، نہ ہی ان طلبہ اور سونم وانگچک کے لیے کوئی اظہارِ یکجہتی کیا گیا جو کئی ہفتوں سے احتجاج اور بھوک ہڑتال پر تھے۔

اداکارہ نے مزید کہا کہ وزیراعظم کو اس معاملے پر بات کرنے میں 47 دن لگ گئے، لیکن جب انہوں نے بات کی تو ایسا کچھ نہیں کہا گیا جو ان لاکھوں طلبہ، والدین اور متاثرہ خاندانوں کے ٹوٹے ہوئے دلوں کو تسلی دے سکے۔واضح رہے کہ نیٹ امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے بعد بھارت بھر میں طلبہ اور والدین کی جانب سے احتجاج کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت یقینی بنائی جائے اور مبینہ دھاندلی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔حکومت کا مؤقف ہے کہ امتحانات کی شفافیت برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ طلبہ تنظیمیں اور اپوزیشن جماعتیں مزید وضاحت اور جواب دہی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔نیٹ امتحان بھارت میں میڈیکل کالجز میں داخلے کے لیے سب سے اہم امتحانات میں شمار ہوتا ہے، جس میں ہر سال لاکھوں طلبہ شرکت کرتے ہیں۔ امتحانی عمل پر اٹھنے والے سوالات نے ملک بھر میں تعلیمی نظام کی شفافیت پر بحث کو جنم دے دیا ہے۔