عابد گوندل
پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان اختلافات کوئی نئی بات نہیں۔ دونوں جماعتیں پاکستان کی سیاست میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں، لیکن ان کے درمیان تعلقات کبھی بھی مستقل طور پر خوشگوار نہیں رہے۔ حالیہ دنوں میں پیپلز پارٹی کی قیادت نے ن لیگ پر کچھ سنگین الزامات عائد کیے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں جماعتوں کے درمیان فاصلے مزید بڑھ رہے ہیں۔پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان اختلافات کی تاریخ پرانی ہے۔ 1988 کے انتخابات کے بعد بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان کشیدگی کھل کر سامنے ا?ئی۔ دونوں جماعتیں اپنی اپنی حکومتوں کے دوران ایک دوسرے کے خلاف محاذ کھولتی رہیں۔ اس کشمکش نے پاکستان کی جمہوری ترقی کو نقصان پہنچایا اور عوام کے مسائل پس پشت ڈال دیے گئے۔2006 میں لندن میں میثاقِ جمہوریت پر دستخط کیے گئے، جس کا مقصد دونوں جماعتوں کے درمیان تنازعات کو ختم کرنا تھا۔ لیکن یہ معاہدہ بھی زیادہ دیر پائیدار ثابت نہ ہوا، اور وقتاً فوقتاً دونوں جماعتیں ایک دوسرے پر سیاسی وار کرتی رہیں۔
اس وقت حکومت کی جانب سے یکسر نظر انداز کیے جانے پر پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن سے ناراض ہے، چند دن قبل قومی اسمبلی میں کورم توڑنے کا مقصد بھی اظہار ناراضی تھا، پیپلز پارٹی نے قومی اسملی کا کورم توڑ کر حکومت کو واضح پیغام دیا ہے۔ پی پی رہنماو?ں کو حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی اجازت دینا بھی دراصل اظہار ناراضی ہے، کیوں کہ پیپلز پارٹی اہم معاملات پر مشاورت نہ ہونے پر شدید برہم ہے، حکومت اہم معاملات پر پی پی کو اعتماد میں نہیں لے رہی۔ دریائے سندھ سے لنک کینال کے معاملے پر پارٹی سے مشاورت نہیں ہوئی۔ پی ٹی ا?ئی سے مذاکرات پر بھی پیپلز پارٹی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، نہ ہی مذاکرات شروع کرنے پر مشاورت کی گئی۔۔پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور سیاسی طور پر بہت اہمیت رکھتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ پنجاب میں اپنی گرفت مضبوط رکھی ہے، جب کہ پیپلز پارٹی کا اثر یہاں کم ہو چکا ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت سمجھتی ہے کہ ن لیگ نے کبھی بھی ان کے ساتھ پنجاب میں برابری کی بنیاد پر تعاون نہیں کیا۔اقتصادی پالیسیوں کے حوالے سے بھی دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات ہیں۔ پیپلز پارٹی کا مو?قف ہے کہ ن لیگ نے اپنے دور حکومت میں وہ معاشی اصلاحات نہیں کیں جن کی ملک کو ضرورت تھی، اور ان کے فیصلے صرف اشرافیہ کو فائدہ پہنچانے کے لیے تھے۔پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر دونوں جماعتوں نے پی ٹی ا?ئی حکومت مخالف تحریک میں حصہ لیا، لیکن جلد ہی دونوں پارٹیوں کے درمیان اختلافات سامنے ا?گئے۔ پیپلز پارٹی نے یہ الزام عائد کیا کہ ن لیگ نے پی ڈی ایم کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا اور دیگر جماعتوں کو ان کے حقیقی کردار سے محروم رکھا۔۔۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حالیہ جلسوں اور بیانات میں ن لیگ پر سخت تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ن لیگ نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے اور اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر فوقیت دی۔ ان کے مطابق، پیپلز پارٹی ایک نظریاتی جماعت ہے جو عوامی خدمت پر یقین رکھتی ہے، جب کہ ن لیگ صرف اقتدار کی سیاست کرتی ہے۔
ان حالات میں عوام دونوں جماعتوں کے اختلافات سے مایوس ہو رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ جماعتیں اپنی اپنی سیاست میں مصروف ہیں اور عوامی مسائل کو نظرانداز کر رہی ہیں۔پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے اختلافات کا فائدہ دیگر سیاسی جماعتوں، خاص طور پر تحریک انصاف کو ہو سکتا ہے، جو اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان اختلافات پاکستانی سیاست میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ اگر دونوں جماعتیں اپنے ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر قومی مفادات کو ترجیح دیں، تو یہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ ملک کے لیے بھی فائدہ مند ہوگا۔ اختلافات کو ختم کرنے کے لیے خلوص نیت اور سیاسی بصیرت کی ضرورت ہے۔اختلافات کے باعث اگر پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان اتحاد ختم ہوتا ہے تو دونوں جماعتوں کو قومی اور صوبائی سطح پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ن لیگ پنجاب میں اپنی مضبوط بنیاد رکھتی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی سندھ میں غالب ہے۔ دوریوں کے نتیجے میں دونوں جماعتیں اپنی اپنی صوبائی سیاست پر زیادہ توجہ مرکوز کریں گی، جس سے دیگر علاقوں میں ان کا اثر و رسوخ کم ہو سکتا ہے۔دونوں جماعتوں کی علیحدگی سے ووٹ بینک تقسیم ہونے کا امکان ہے، جس کا فائدہ تحریک انصاف یا دیگر جماعتوں کو ہو سکتا ہے۔چھوٹی جماعتیں اور ا?زاد امیدوار اتحاد کے خاتمے سے متاثر ہو سکتے ہیں، کیونکہ وہ عمومی طور پر بڑی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کر کے اپنی سیاسی حیثیت مضبوط بناتے ہیں۔ اس سے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قانون سازی کے عمل پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے بلز کی مخالفت میں زیادہ وقت صرف کریں گی۔پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان دوریاں پاکستانی سیاست میں ایک نئی سمت کا تعین کر سکتی ہیں۔ ان کے اثرات مختصر مدت اور طویل مدت میں مختلف ہو سکتے ہیں، جن کا انحصار دونوں جماعتوں کی حکمت عملی، دیگر جماعتوں کے ردعمل، اور عوامی رائے پر ہوگا۔