پولیس گردی،ڈاکٹر کو اغوا کر کے تاوان وصول

ملزمان ڈاکٹر مختار حسین کو گھر سے زبردستی ساتھ لے گئے، اسلحہ کے زور پر بینک سے رقم نکلواتے رہے، فیروز پور روڈ پر چھوڑ کر فرار
لاہور(کرائم رپورٹر)ماڈل ٹاؤن کے علاقہ میں پولیس یونیفارم میں ملبوس تین ملزمان نے شہری سے واردات کرتے ہوئے حبس بے جامیں رکھ کر اسلحہ کے زور پر بینک سے رقم نکلواتے رہے۔ملزمان ڈاکٹر مختار حسین کو گھر سے زبردستی ساتھ لے گئے۔ایف آئی آر متن کے مطابق ملزمان نے گھر سے تین موبائل اٹھائے اور رنگ روڈ سمیت مختلف جگہوں پر گھوماتے رہے۔ ملزمان نے پرس اور اے ٹی ایم سے پانچ لاکھ  روپے زبردستی نکلوائے ملزم شہری کو ایف آئی آر درج کرنے سمیت سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے رہیتینوں ملزمان نے واردات کے دوران اپنے چہرے ڈانپ رکھے تھے۔ حبس بے جا میں رکھ کر لوٹ مار کے بعد تین ملزمان ڈاکٹر مختار کو فیروز پور روڈ پر چھوڑ کر فرار ہوگئے ماڈل ٹائون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے شہری کے بیان پر تین نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ملزمان کو گرفتار کرلیا جائے گا ۔لاہور پولیس نے پیٹی بھائیوں کے خلاف کارروائی نہ ہونے کا تاثر ختم کر دیا۔ محکمانہ احتساب کی ایک اور مثال قائم کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے فوری گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ تفصیلات کے مطابق دو روز قبل تھانہ ماڈل ٹاؤن کی حدود میں بھتہ خوری کاواقعہ رپورٹ ہوا جس میں ملزمان نے مبینہ طور پر ڈاکٹر مختار کو گھر سے اغوا کر کے 5 لاکھ تاون وصول کیا۔ڈی آئی جی آپریشنزفیصل کامران نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈاکٹر مختیار کی مدعیت میں فوری مقدمہ درج کرنے اور ملزمان کی گرفتار ی کا حکم دیا۔ پولیس ٹیم نے ملزمان کی نشاندہی اور گرفتاری کا عمل فوری شروع کرتے ہوئے واقعہ میں ملوث 3 پولیس اہلکار گرفتارکر لیئے۔ گرفتار ملزمان میں کانسٹیبل وقاص، کانسٹیبل نفیس اورکانسٹیبل آصف شامل ہیں۔ ملزمان کو شناخت پریڈ کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے۔ دیگر ملزمان رانا قربان اور عدانہ کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں۔ ڈی آئی جی آپریشنز کا اس موقع پر کہناتھا کہ واقعہ میں ملوث اہلکاروں کے خلف محکمانہ کاروائی کا عمل بھی شروع کر دیا گیا۔ پولیس کی خلاف شہری اعتماد کے ساتھ جائز شکایت کریں، فوری کاروائی ہو گی۔جرم میں پولیس اہلکار ملوث ہو یا عام شہری، تیز ترین کاروائی ہو گی۔ فیصل کامران نے کہا کہ پولیس کو بدنام کرنے والی کالی بھیڑوں کا خاتمہ اولین ترجیح ہے۔ گزشتہ گیارہ ماہ میں 330 سے زائد اہلکاروں کا محکمانہ احتساب کیا گیا۔ رشوت، کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔