ایسا فوجداری انصاف نظام جو عام شہریوں کیلئے ناکارہ اور مراعات یافتہ طبقہ کا محافظ ہو، آئینی حکمرانی کی کمی ظاہر کرتا ہے:جسٹس اطہر من اللہ

کراچی(آن لائن)سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے تحریر کردہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہاگیاہے کہ ایسا فوجداری انصاف کا نظام جو عام شہریوں کیلئے ناکارہ اور بااختیار و مراعات یافتہ طبقہ کا محافظ ہو، آئینی حکمرانی کی کمی کو ظاہر کرتا ہے، یہ ذمہ داری متعلقہ حکومتوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ثابت کریں کہ ہر شہری کے ساتھ آئین کے آرٹیکل 4 میں درج ذمہ داری کے مطابق برتا کیا جاتا ہے۔جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے تحریر کردہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں عدالت نے ایف آئی آر درج کرنے میں پولیس کی جانب سے وسیع پیمانے اور منظم انداز میں انکار یا تاخیر کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے مزیدکہا ہے کہ اس لازمی قانونی ذمہ داری سے غفلت کے لیے کوئی جواز نہیں دیا جا سکتا، کیوں کہ اس طرح کی خلاف ورزیاں فوجداری انصاف کے نظام پر عوام کے اعتماد کو متزلزل کر دیتی ہیں۔