بھارتی دورِ حکومت میں کرپشن اور بدعنوانی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔
سفاک وزیراعظم نریندر مودی، اڈانی، امبانی اور دیگر بڑے سرمایہ داروں کے گٹھ جوڑ نے بھارت کے عوام کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔بھارتی جریدہ دی وائر کے مطابق، مالی کرپشن، ادارہ جاتی تباہی، مذہبی تقسیم، سیاسی انتقام، بلڈوزر کلچر اور نفرت بھارت کی شناخت بن چکی ہے۔مودی کے دور میں کرپشن میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس کا کوئی روک ٹوک کرنے والا نہیں۔ بھارت میں نفرت، تقسیم، مذہبی تعصب اور سماجی کرپشن حکومتی سرپرستی میں عام ہو چکی ہے۔معاشی، سماجی، مذہبی، عدالتی، انتخابی، ادارہ جاتی اور ماحولیاتی شعبوں تک ہر جگہ کرپشن کا غلبہ ہے۔روسی تیل کی خریداری سے حاصل شدہ فائدہ امبانی اور اڈانی جیسے بڑے سرمایہ داروں کو پہنچا، نہ کہ عوام کو۔ہنڈن برگ رپورٹ میں اڈانی گروپ پر بڑے فراڈ اور دھوکہ دہی کے باوجود SEBI نے انہیں بچایا۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی وزارت خزانہ نے ایل آئی سی کو تقریباً 4 ارب ڈالر اڈانی گروپ میں لگانے پر مجبور کیا۔بھارتی میڈیا مکمل طور پر سرکاری اثر میں ہے اور کرپشن کو معمول بنا دیا گیا ہے۔بھارتی سرکاری ادارے، قومی اثاثے اور زمینیں نچلے قیمت پر نجی گروپوں کے حوالے کیے جا رہے ہیں۔امبانی اور اڈانی کی دولت 2014 کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ چکی ہے، جبکہ بھارت کا ہنگر انڈیکس 55 سے گر کر 102 ہو گیا ہے۔اوپر کے 10 فیصد لوگ ملک کی 80 فیصد دولت پر قابض ہیں، اور امیری اور غریبی کا فرق بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔