بھارت میں جرائم کی شرح میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے اور یہ صورتحال براہِ راست نریندر مودی حکومت کی ناقص پالیسیوں سے جڑی دکھائی دیتی ہے۔
بھارتی نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (NCRB) کی تازہ رپورٹ نے ایک سنگین اور تشویشناک تصویر پیش کی ہے جس نے نہ صرف اپوزیشن بلکہ عوام کو بھی سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
مجموعی جرائم میں اضافہ:
سال 2023 میں بھارت میں جرائم کی شرح میں 7.2 فیصد اضافہ ہوا۔ملک بھر میں 62 لاکھ سے زائد کیسز رجسٹر کیے گئے، جو ایک ریکارڈ ہے۔
سائبر کرائم:
86 ہزار سے زائد کیسز سائبر جرائم کے رپورٹ ہوئے۔یہ تعداد بھارت میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بڑھتی ہوئی مجرمانہ سرگرمیوں کا واضح ثبوت ہے۔
معاشی اور فراڈ کیسز:
1 لاکھ 81 ہزار سے زائد کیسز جعل سازی، بلیک میلنگ اور دھوکا دہی سے متعلق ہیں۔معاشی جرائم کی کُل تعداد 2 لاکھ 4 ہزار 973 تک جا پہنچی۔
اغوا کے واقعات:
7 لاکھ 9 ہزار 880 اغوا کے کیسز درج ہوئے۔ان میں سے 14,637 کیسز نابالغ لڑکیوں کو زبردستی شادی پر مجبور کرنے سے متعلق ہیں۔
بچوں کے خلاف جرائم:
بچوں کے خلاف جرائم میں 9.2 فیصد اضافہ ہوا۔1 لاکھ 77 ہزار سے زائد کیسز درج ہوئے۔رپورٹ کے مطابق 40 ہزار سے زائد بچے اور بچیاں جنسی زیادتی جیسے سنگین جرائم کا شکار بنے۔
سیاسی ردعمل:
اپوزیشن جماعت کانگریس نے مودی حکومت پر کڑی تنقید کی اور اس رپورٹ کو "شرمناک" قرار دیا۔کانگریس کے مطابق بھارت میں دن دہاڑے قتل، ڈکیتی، اغوا، تاوان اور گینگ وار معمول بن چکے ہیں۔