بنددروازوںکے پیچھے

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
دونوں بیانیوں میں موجودخوف کوسمجھے بغیرکوئی سمجھوتادیرپانہیں ہوگا۔اسی لیے باضابطہ یارسمی فریم ورک کی تجویزاہم ہے۔ایک موثرفریم ورک میں مشترکہ تصدیقی کمیشن،غیر جانب دارتکنیکی مبصر، محفوظ انٹیلی جنس چینل،شکایت درج کرنے کی مدت،جواب دہی کانظام اورشہری ہلاکتوں کی مشترکہ تحقیقات شامل ہوسکتی ہیں۔ کارروائی کی تفصیل عوامی نہ بھی ہو،نتائج کی بنیادی اطلاع ضرورجاری ہوتاکہ افواہ حقیقت پرغالب نہ آئے۔انصاف کاترازودونوں پلڑوں کے بغیرسیدھانہیں رہتا؛پاکستان کے سلامتی خدشات اورافغانستان کی خودمختاریدونوں کوایک ہی دستاویزمیں قابلِ احترام مقام دیناہو گا۔
پاکستانی دفترِخارجہ نے تجارتی راستے کھولنے کی آمادگی کوافغان سرزمین سے حملوں کے مکمل خاتمے سے مشروط کیاہے۔ترجمان نے ترکیہ،قطراورچین کی سابقہ کوششوں کوتعمیری قرار دیا،مگرافغان فریق کے ردِعمل کوناکافی بتایا۔یہ بیان پاکستان کی سرخ لکیر واضح کرتاہے:تجارت معمول پرلانے سے پہلے سلامتی میں قابلِ محسوس تبدیلی،یہ شرط ریاستی منطق رکھتی ہے،لیکن لفظ مکمل عملی سفارت کاری میں دشوارمعیاربن سکتاہے۔دنیاکی مضبوط ترین ریاستیں بھی دہشتگردی کے صفرواقعات کی فوری ضمانت نہیں دے سکتیں؛وہ نیت، صلاحیت، کارروائی اورمسلسل کمی کوناپتی ہیں۔زیادہ قابلِ عمل راستہ یہ ہوگاکہ پاکستان واضح اشاریے مقررکرے:مخصوص نیٹ ورکس کے خلاف اقدامات،سرحدی دراندازی میں کمی، مطلوب رہنماں کی نقل وحرکت پرپابندی،اورمشترکہ شکایات پربروقت جواب۔یوں ریڈلائن دھندلی نہیں ہوگی،مگرمذاکرات بھی ناممکن کمال کی شرط سے مقفل نہیں ہوں گے۔
پاکستان نے مذاکرات اورسفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کرنے کی خواہش دہرائی ہے،ساتھ ہی یہ بھی کہاہے کہ شدت پسندوں کی آمدورفت جاری رہے تومختلف ردِعمل کی توقع نہیں کی جاسکتی۔دوسری جانب طالبان حکومت ٹی ٹی پی کوپاکستانی داخلی معاملہ قرار دیتی ہے۔یہاں ایک باریک مگرفیصلہ کن فرق ہے:کسی تحریک کی جڑیں داخلی ہوسکتی ہیں ، لیکن اگراس کی عملی پناہ،رسدیامنصوبہ بندی سرحدپارہوتومسئلہ دوطرفہ سلامتی کارخ اختیارکرلیتاہے۔اسی طرح پاکستان کی جوابی کارروائی کواگرافغان خودمختاری کومتاثر کہے توکابل کیلئے وہ محض داخلی دفاع نہیں رہتی۔بلکہ حکومتِ پاکستان کااپنی عوام کے دفاع کویقینی بنانافریضہ میں شامل ہے۔
اسلامی سیاسی اخلاق میں عہدکی پاسداری،ہمسائے کے امن اوربے گناہ جان کے تحفظ کوبنیادی مرتبہ حاصل ہے۔ ولاتزِروازِر وِزر خرکااصول یاددلاتاہے کہ ایک کے جرم کا بوجھ دوسرے بے گناہ پرنہیں ڈالاجاسکتاچنانچہ نہ مسلح گروہوں کوعوامی آبادی کی اوٹ ملنی چاہیے،نہ ریاستی ردِعمل شہریوں کواجتماعی سزادے۔سرخ لکیرکی حرمت تبھی معتبررہتی ہے
جب اسے قانون،ثبوت اورتناسب کی سیاہی سے کھینچا جائے۔
پاکستانی بریفنگ میں گزشتہ برس نائب وزیرِ اعظم ووزیرِخارجہ اسحاق ڈارکے دور افغانستان،ٹرانزٹ سہولتوں اورمحصولات میں کمی کی پیشکش کاحوالہ دیاگیااورکہاگیاکہ اگلا قدم افغان فریق کواٹھاناہے۔اس مؤقف میں ایک حقیقت پوشیدہ ہے:تجارت صرف انعام نہیں،امن کا آلہ بھی بن سکتی ہے۔جوبازارایک دوسرے سے روزی پاتے ہوں،وہ جنگ کی قیمت زیادہ شدت سے محسوس کرتے ہیں۔لیکن اگرتجارت کوہرسیاسی اختلاف پربندہونے والانل بنادیاجائے توکاروباری طبقہ کسی معاہدے پربھروسانہیں کرتا۔
بہترحکمتِ عملی مرحلہ واربحالی ہے۔پہلے ادویات،خوراک،خراب ہونے والی اشیااورانسانی آمدورفت کیلئے محدودراستے؛پھرتصدیق شدہ سلامتی اقدامات کے ساتھ ٹرانزٹ اور دوطرفہ تجارت کی توسیع؛آخرمیں بینکاری،کسٹم ڈیجیٹلائزیشن اوروسطی ایشیاتک راہداری۔ہر مرحلے کے ساتھ واضح معیاراورواپسی کے متناسب قواعدہوں۔مکمل بندش کی بجائے ہدفی پابندی اختیارکی جائے تاکہ سزاحملہ آورکو ملے،سرحد کے دونوں جانب کے مزدور،مریض اورتاجر اس کی قیمت نہ چکائیں۔
پاکستان کے مطابق چین،قطر،سعودی عرب اوروسطی ایشیائی ریاستیں بھی افغانستان میں شدت پسند سرگرمیوں سے فکرمندہیں۔یہ تشویش محض پاکستان کی نہیں:داعش خراسان، سرحد پارمسلح گروہ،منشیات،بے قاعدہ نقل مکانی اورتجارتی عدم استحکام پورے خطے کومتاثر کرتے ہیں۔افغانستان اگرواقعی علاقائی رابطوں کامرکزبنناچاہتاہے تواسے جغرافیہ کی عطا کواعتمادکی معیشت میں بدلناہوگا؛شاہراہیں صرف پتھراورتارکول سے نہیں، پیش گوئی کے قابل سیاسی رویے سے بنتی ہیں۔
مکہ دفاعی معاہدے میں ترکیہ کی شمولیت اوریمن سعودی کشیدگی نے انقرہ کے مفادکمزید نمایاں کیاہے۔اگرپاکستان کوخلیجی ذمہ داریوں کے ساتھ افغان سرحدپربھی شدیدبحران کا سامنا ہوتوپورادفاعی توازن متاثرہوسکتاہے۔اس لیے ترکیہ کاکابل اسلام آبادمکالمہ بحال کرانا اخلاقی خیرخواہی کے ساتھ عملی حکمت بھی ہے۔تاہم یہ نتیجہ ایک تجزیاتی قرینہ ہے، سرکاری طورپرثابت شدہ ایجنڈانہیں۔سفارت کاری میں اکثرمفاد اوراصول ایک ہی کشتی میں سفرکرتے ہیں؛دانائی یہ ہے کہ کشتی امن کے ساحل تک پہنچے،کسی نئی محاذ آرائی کی موج میں نہ الٹے۔
تمام مثبت اشاروں کے باوجود اصل گرہ اعتمادکی ہے۔پاکستان سمجھتاہے کہ کابل وعدہ کرتاہے مگرٹی ٹی پی کے خلاف فیصلہ کن اقدام نہیں کرتا؛طالبان حکومت سمجھتی ہے کہ اسلام آباد سلامتی کودبا،سرحدی بندش اورفضائی قوت کے جوازکے طورپراستعمال کرتاہے۔ دونوں کے پاس شکایات کی طویل فہرست اوریادداشت میں تازہ زخم ہیں۔ایسے میں ایک بڑی جامع مفاہمت کے انتظارسے بہترہے کہ اعتماد کواینٹ اینٹ تعمیرکیاجائے۔پہلا قدم مستقل رابطہ گروپ ہوجس میں پاکستان،افغانستان،ترکیہ،قطراورضرورت کے مطابق چین شامل ہوں۔ دوسرا،نوے روزہ سلامتی منصوبہ ہوجس میں قابلِ جانچ اہداف اورہفتہ واررابطہ مقررہو۔تیسرا،مشترکہ سرحدی واقعاتی مرکزقائم کیا جائے۔چوتھا،تجارت کی مرحلہ وار بحالی کوسلامتی اشاریوں سے جوڑاجائے مگرانسانی ضروریات کواستثناحاصل ہو۔پانچواں،علما،قبائلی عمائدین،تاجروں اورسرحدی آبادیوں کے محدودمگرمسلسل مکالمے شروع کیے جائیں۔ریاستی معاہدہ اوپرسے سایہ دیتاہے،مگرامن کی جڑیں نیچے معاشرے میں پھیلتی ہیں۔فریقین کواپنے زیادہ سے زیادہ مطالبات سے کچھ فاصلہ اختیارکرناہوگا؛کیونکہ صلح وہ آئینہ ہے جس میں آدمی صرف دوسرے کاعیب نہیں،اپنی سختی بھی دیکھتا ہے۔
ترک وقطری وفودکادورہ کسی تیارشدہ معاہدے کی بشارت نہیں،مگرخاموشی کی دیوارمیں ایک روشن شگاف ضرورہے۔حقانی کے باضابطہ طریق کارسے متعلق بیانات،کابل کی مذاکراتی آمادگی،پاکستان کی پرامن حل اورتجارت کی مشروط بحالی کی پیشکش،اورانقرہ کی مسلسل آمدورفت بتاتی ہے کہ دونوں فریق جنگ کومقدرسمجھنے پرابھی آمادہ نہیں۔مگرنیت کی یہ رمق تبھی چراغ بنے گی جب اسے ادارہ جاتی تیل میسرآئے۔
مستقل حل کی بنیاد تین اصولوں پررکھی جاسکتی ہے:کسی ملک کی سرزمین دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہو؛خودمختاری اورشہری جان کی حرمت پامال نہ ہو؛اورالزام کافیصلہ تقریرنہیں، مشترکہ وقابلِ تصدیق طریق کارکرے۔پاکستان کویہ مانناہوگاکہ پائیدارسلامتی صرف طاقت سے نہیں،مستحکم اورمعاشی طورپرمربوط افغانستان سے پیداہوگی۔کابل کویہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمسایہ ملک کے خلاف متحرک مسلح نیٹ ورک کوداخلی مسئلہ کہہ دیناذمہ داری کاخاتمہ نہیں کرتا۔ترکیہ،قطراورچین کوبھی تصویری ملاقاتوں سے آگے بڑھ کر ضامن،نگران اور سہولت کارکے واضح کردارتقسیم کرناہوں گے۔
تاریخ نے دونوں قوموں کوایک ہی درے کے دوکناروں پرکھڑاکیاہے۔وہ چاہیں تواس درے کوبارودکی گزرگاہ بنادیں،چاہیں توتجارت،علم اورامن کاپل۔عقل کہتی ہے کہ ہمسایہ بدلانہیں جاسکتا؛اخلاق کہتاہے کہ ہمسائے کودائمی دشمن نہیں بنایاجاسکتا؛اورتاریخ تنبیہ کرتی ہے کہ جوقومیں مکالمے کاچراغ بجھادیتی ہیں،انھیں دیرتک دھوئیں میں راستہ تلاش کرنا پڑتاہے۔