ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں جاری خلیجی کشیدگی اور مودی حکومت کی اسرائیل سے وابستگی کے اثرات بھارتی معیشت اور عوامی مفادات پر منفی اثر ڈال رہے ہیں۔
امریکی جریدے دی نیو یارک ٹائمز نے خلیج جنگ کو بھارت کے لیے بڑا معاشی دھچکا قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی طویل مدتی بحران سے بھارت کے مالی وسائل پر شدید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ جریدے کے مطابق بھارت میں پہلے ہی گھریلو گیس کی قلت صارفین کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث برآمدات اور خلیجی ممالک سے ترسیلاتِ زر خطرے میں ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران بھارت کی اسٹاک مارکیٹ تقریباً 10 فیصد تک گری ہے، جبکہ عالمی سرمایہ کاری بینک گولڈمین ساکس نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ سال بھارت کو زیادہ مہنگائی اور کمزور کرنسی جیسے چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی کی سفاک نظریاتی وابستگی اور نیتن یاہو سے تعلقات کے باعث بھارت کے عوامی مفادات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ مسلسل گرتی معیشت، عوام پر بڑھتا ہوا بوجھ اور توانائی کی قلت اس بات کا ثبوت ہے کہ مودی سرکار کی ترجیحات میں بھارتی عوام کا مفاد نہیں بلکہ اسرائیل نواز پالیسی شامل ہے۔