واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل اور ایران نے ’تقریباً ایک ہی وقت میں‘ ان سے رابطہ کیا اور امن کی خواہش کا اظہار کیا۔
ٹرمپ کے مطابق، یہی وہ لمحہ تھا جب انہیں احساس ہوا کہ دنیا ایک بڑے فیصلہ کن موڑ پر آ چکی ہے۔انہوں نے اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ "ٹرتھ سوشل" (Truth Social) پر لکھا:"اسی لمحے مجھے احساس ہوا کہ فیصلہ کن گھڑی آ چکی ہے۔"ٹرمپ کے مطابق، یہ جنگ بندی صرف دو ممالک کی کامیابی نہیں بلکہ پوری دنیا، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک بڑی فتح ہے۔
ٹرمپ کا بیان:
"اصل فتح ساری دنیا اور مشرقِ وسطیٰ کی ہوئی ہے۔ دونوں ممالک اپنے مستقبل میں بے پناہ محبت، امن اور خوشحالی دیکھیں گے۔""اگر یہ دونوں ممالک سیدھے اور سچائی کے راستے پر قائم رہیں تو بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں، ورنہ سب کچھ کھو بھی سکتے ہیں۔"آخر میں ٹرمپ نے دعا کرتے ہوئے لکھا:"خدا اسرائیل اور ایران کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔"
موجودہ زمینی حقائق:
ایران کا مؤقف: وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق ایران نے کسی جنگ بندی معاہدے کی توثیق نہیں کی، صرف یہ کہا ہے کہ اگر اسرائیل حملے بند کرے گا تو ایران بھی جواب دینا روک سکتا ہے۔اسرائیل کا مؤقف: باضابطہ جنگ بندی کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم بعض رپورٹس کے مطابق ایران نے صبح 4 بجے کے بعد حملے روک دیے۔
تجزیہ:
ٹرمپ کی پوسٹ بین الاقوامی سطح پر امن پسند امیج اجاگر کرنے کی کوشش ہے، تاہم زمینی حقائق ابھی مکمل جنگ بندی کی تصدیق نہیں کر رہے۔ ایران کی جانب سے محتاط بیانات اور اسرائیل کی خاموشی ظاہر کرتی ہے کہ دونوں فریق مکمل یقین دہانی کے بغیر سرکاری طور پر جنگ بندی تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں۔