صرف جنگ بندی نہیں، ایران اسرائیل تنازع کا "مکمل خاتمہ" چاہتے ہیں:ٹرمپ

صرف جنگ بندی نہیں، ایران اسرائیل تنازع کا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے محض وقتی خاتمے یا جنگ بندی سے مطمئن نہیں بلکہ "تنازع کا مکمل خاتمہ" چاہتا ہے۔

ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے امریکی مفادات یا اہلکاروں کو نشانہ بنایا، تو امریکا کی جانب سے "انتہائی سخت ردعمل" دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا:"اگر انہوں نے ہمارے لوگوں کو کچھ کہا، تو ہم انتہائی سخت حملہ کریں گے… پھر دستانے اُتر جائیں گے۔"صدر ٹرمپ نے ایران کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا:"مجھے لگتا ہے وہ جانتے ہیں کہ ہمارے فوجیوں کو چھونا ان کے لیے خطرناک ہوگا۔"ایک صحافی کے سوال پر کہ آیا وہ صرف جنگ بندی چاہتے ہیں، ٹرمپ نے دوٹوک انداز میں کہا:"ہم صرف جنگ بندی نہیں چاہتے، ہم ایک حقیقی خاتمہ چاہتے ہیں... اگر ایران مکمل طور پر ہتھیار ڈال دے تو وہ بھی قابلِ قبول ہے۔"ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اس وقت وہ ایران سے براہِ راست مذاکرات کے موڈ میں نہیں ہیں، تاہم انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ مستقبل میں ممکنہ طور پر نائب صدر جے ڈی وینس اور مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کو ایرانی حکام سے بات چیت کے لیے بھیج سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایران کے جوہری عزائم پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایک بار پھر مؤقف دہرایا:"ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔"ٹرمپ کا یہ جارحانہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور عالمی سطح پر خطے میں ممکنہ بڑی جنگ کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔