پیٹرولیم مصنوعات مہنگی، ٹرانسپورٹ سیکٹر بحران کا شکار، بس اڈوں پر مسافر کم ہوگئے

پیٹرولیم مصنوعات مہنگی، ٹرانسپورٹ سیکٹر بحران کا شکار، بس اڈوں پر مسافر کم ہوگئے

وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ٹرانسپورٹ سیکٹر شدید دباؤ کا شکار ہو گیا ہے، جبکہ کراچی کے سہراب گوٹھ میں واقع پنجاب بس اڈے پر مسافروں کی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔

بس ڈرائیورز اور کنڈیکٹرز کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے آپریٹنگ اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ پنجاب سمیت دیگر شہروں کا سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔ٹرانسپورٹ عملے کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو گاڑیاں چلانا معاشی طور پر ممکن نہیں رہے گا اور کئی ٹرانسپورٹرز بسیں بند کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ڈیزل مہنگا ہونے سے نہ صرف سفری اخراجات میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ٹرانسپورٹ کا پورا نظام مالی دباؤ کا شکار ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق کرایوں میں اضافہ بھی مسئلے کا مکمل حل نہیں، کیونکہ مہنگے کرایوں کے باعث مسافروں کی تعداد مزید کم ہو رہی ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر نظرثانی کی جائے اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کو ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ عوام کو سستی اور معیاری سفری سہولیات میسر رہ سکیں۔ٹرانسپورٹرز نے مزید مطالبہ کیا کہ حکومت اپنے اخراجات میں کمی لائے اور مہنگائی کا بوجھ عوام پر منتقل کرنے کے بجائے ایسے اقدامات کرے جو معیشت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کو سہارا دے سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بروقت ریلیف نہ دیا گیا تو نہ صرف ٹرانسپورٹ انڈسٹری بلکہ عام مسافر بھی شدید مشکلات سے دوچار ہوں گے۔