وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے مطابق عورت پر نصف مہر واپسی کی کوئی شرط نہیں لگائی جا سکتی: جسٹس ملک شہزاد احمد کے سماعت کے دوران ریمارکس
اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ نے خلع کی صورت میں خاتون سے نصف حق مہر واپس لینے کے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے اہم ریمارکس دیے ہیں۔ بنچ نے کہا یہ معاملہ صرف قانونی نہیں بلکہ شریعت کی روشنی میں عورت کے حقوق کے تعین سے متعلق ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے سماعت کی اور سابق سربراہ شعبہ تحقیق اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر انعام اللہ اور سینئر وکیل ڈاکٹر بابر اعوان کو عدالتی معاون مقرر کر دیا۔سماعت کے دوران عدالت نے بنیادی سوال اٹھایا کہ کیا قانون کے ذریعے خلع لینے والی عورت پر حق مہر کا کچھ حصہ واپس کرنے کی پابندی عائد کی جا سکتی ہے؟ جسٹس ملک شہزاد احمد نے ریمارکس دیے کہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے مطابق عورت پر نصف مہر واپسی کی کوئی شرط نہیں لگائی جا سکتی ۔جسٹس جمال مندوخیل نے پنجاب حکومت کے اس قانون کا ذکر کیا جس کے تحت خلع کی صورت میں عورت کو مہر کا 50 فیصد واپس کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وفاقی شرعی عدالت پہلے ہی اس قانون کو کالعدم قرار دے چکی ہے۔۔ جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ استحصال بعض اوقات دونوں اطراف سے ہوتا ہے اور ایسے گروہ بھی موجود ہیں جو امیر افراد سے شادی کر کے دو ماہ بعد خلع لے لیتے ہیں۔