زہریلے فضلے کے خلاف مظاہرے
بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے علاقے پتھم پور میں بھوپال سے لائے گئے زہریلے فضلے کو ٹھکانے لگانے کے حکومتی اقدام پر عوام سراپا احتجاج ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق دنیا کی بدترین صنعتی آفات میں سے ایک، 1984ء کے بھوپال گیس سانحے کی باقیات 337 ٹن زہریلے فضلے کی شکل میں پتھم پور منتقل کی گئی ہیں، جس نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔
عوامی خدشات
مقامی آبادی کو خدشہ ہے کہ اس فضلے کو آبادی کے قریب ٹھکانے لگانا ماحولیاتی تباہی اور صحت کے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ تین ہفتے قبل فضلے کی منتقلی کے بعد علاقے میں کشیدگی برقرار ہے، اور تین جنوری کو فضلے کی آمد کے اگلے دن شدید مظاہرے پھوٹ پڑے، جن میں پتھراؤ اور ایک شخص کی خود سوزی کی کوشش بھی شامل تھی۔
نیوروٹوکسن سے اموات
اسی دوران مقبوضہ کشمیر کے ضلع راجوی کے گاوٴں بدھل میں پراسرار بیماری سے ایک ماہ میں 16 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ ماہرین نے ان ہلاکتوں میں نیوروٹوکسن کی موجودگی کا شبہ ظاہر کیا ہے، جو ماحولیاتی یا کیمیائی آلودگی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔
حکومتی پالیسیوں پر سوالات
یہ واقعات مودی حکومت کی ناکام پالیسیوں اور عوامی تحفظ کے حوالے سے لاپرواہی کو ظاہر کرتے ہیں۔ زہریلے فضلے کو ٹھکانے لگانے کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات اور پراسرار بیماریوں سے ہونے والی اموات حکومت کے لیے سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ عوام کے بڑھتے ہوئے احتجاج سے مودی سرکار کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کے دباؤ کا سامنا ہے۔