بی او آر سوسائٹی ، جوہر ٹا ئون، گلشن راوی اور سبزہ زار میں بھی غیر قانونی طور پر سڑکیں اکھاڑ دی گئیں
لاہور (کرائم رپورٹر)محکمہ ہا ئوسنگ کے زیر انتظام چلنے والے اداروں نے روڈ کٹ کے نام پرسڑکوں کو تباہ حال کر دیا۔ روڈ کٹ لگنے سے لاہور کی سڑکوں پر ٹریفک روانی سست روی کا شکار ہے۔ مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بغیر پی ایچ اے، واسا اور دیگر محکموں کی طرف سے روڈ کٹ لگائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ تفصیل کے مطابق شہر لاہور میں ٹریفک روانی کو بہتر بنانے کے لئے فلائی اوور، انڈر پاسز اور سگنل فری کوریڈور تعمیر کئے گئے مگر اداروں کی مبینہ غفلت اور کوتاہی کی وجہ سے ٹریفک روانی میں بہتری نہ آسکی۔اداروں کی آپسی چپقلش اور وضع کردہ نوٹیفکیشن پر عمل در آمد نہ کرنے سے شہر میں مختلف مقامات پر روڈ کٹس لگائے گئے ہیں۔ روڈ کٹ سے متعلق 30 جنوری 2024 کو نوٹیفکیشن کے ذریعے کمیٹی تشکیل دی گئی۔چیف انجینئر ٹیپا کو کمیٹی کا کنوینر اور 11 الائیڈ محکموں کو نمائندہ منتخب کیا گیا۔ کمیٹی کو روڈ کٹ کے عوض فیس وصول کرنے کا مینڈیٹ سونپا گیا۔ٹریفک روانی کو مدنظر رکھتے ہوئے روڈ کٹ کے لئے مناسب وقت کا انتخاب بھی کمیٹی نے کرنا تھا۔ پی ایچ اے اور واسا نے روڈ کٹ لگانے کے لئے قوانین کو پامال کر دیا۔ پی ایچ اے کے ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی ٹو نے پی ٹی ایس ایل لائن بچھانے کی اجازت دے دی۔ شہر میں قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سڑکیں اکھاڑ دی گئیں۔بی او آر سوسائٹی ، جوہر ٹا ئون، گلشن راوی اور سبزہ زار میں بھی غیر قانونی روڈ کٹ لگائے گئے۔ ٹیپا انتظامیہ بھی غیر قانونی روڈ کٹ کو روکنے میں ناکام ہے۔