بیساکھیوں پر کھڑی حکومت سے کیسے جوڈیشل کمیشن کی توقع کی جاسکتی ہے؟:جاویدلطیف

موجودہ حکومت اتحادیوں کے بغیر ایک دن کھڑی نہیں رہ سکتی، عالمی قوتوں کا دبائو اب بھی ہے جو پاکستان کو غیرمستحکم کرنا چاہتے ہیں
جب حکومت بہادری کی بات کرتی ہے تو عدلیہ یا بندوقوں کے ذریعے نکال دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے( ن) لیگ کی کسی کے ساتھ بنتی نہیں
اسلام آباد(آئی این پی )مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ اتحادیوں کی بیساکھیوں پر کھڑی حکومت سے کیسے جوڈیشل کمیشن کی توقع کی جاسکتی ہے؟ ،موجودہ حکومت اتحادیوں کے بغیرایک دن کھڑی نہیں رہ سکتی، آج بھی کہتا ہوں کہ مذاکرات دبا ئوکی وجہ سے ہورہے تھے،عالمی قوتوں کا دبائو اب بھی ہے جو پاکستان کو غیرمستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ بنیادی اصول طے کیے بغیر بیٹھک ہوگی تو ایسے مذاکرات کا نتیجہ یہی نکلتا ہے۔ آج بھی کہتا ہوں کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات دبائو کی وجہ سے ہورہے تھے، ٹی او آرز طے کیے بغیر ہی مذاکرات کیے جارہے تھے جوکامیاب نہیں ہوسکتے تھے، عالمی قوتوں کا دبائو اب بھی ہے جو پاکستان کو غیرمستحکم کرنا چاہتے ہیں، عالمی قوتوں کا ایک شخص کے ساتھ اب بھی تعلق ہے جو جاری رہے گا، ہم 2018میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں لیکن 5سال پورے ہوگئے، 2014میں دھرنا کس نے کرایاتھا اس پر بھی جوڈیشل کمیشن بننا چاہیے۔انہوں نے کہا جب سی پیک بننا تھا تو نوازشریف کو بہت لوگوں نے روکا کہ ایٹمی دھماکے کرکے بڑا بھگت لیا اب نہ کریں۔ انہوں نے کہاکہ دوتہائی رکھنے والی جماعت اپنے وزیراعظم کو سزا سے نہیں بچا سکی۔انہوں نے کہا کہ جب حکومت بہادری کی بات کرتی ہے تو پھر عدلیہ یا بندوقوں کے ذریعے نکال دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ( ن) لیگ کی کسی کے ساتھ بنتی نہیں ہے۔