اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو سات مقدمات میں عبوری ضمانت منظور

اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو سات مقدمات میں عبوری ضمانت منظور

اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سات مقدمات میں عبوری ضمانتیں منظور کرلی ہیں۔

 ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے بانی پی ٹی آئی کی چھ اور بشریٰ بی بی کی ایک درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے دونوں رہنماؤں کی درخواستیں پچاس پچاس ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کیں۔مقدمات کی تفصیلات کے مطابق، بانی پی ٹی آئی کے خلاف 9 مئی کے واقعات، آزادی مارچ، اقدام قتل، توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور توشہ خانہ کی جعلی رسیدوں کے مقدمات درج ہیں۔ بشریٰ بی بی کے خلاف بھی توشہ خانہ کی جعلی رسیدوں کا کیس تھانہ کوہسار میں درج ہے۔پراسیکوشن کی جانب سے راجہ نوید حسین کیانی، مظہر بشیر اور طاہر کاظم عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں، اس لیے ان کی ضمانت منظور نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے درخواستیں خارج کرنے کی استدعا کی۔وکیل سلمان صفدر نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کے خلاف 63 التوا جاری کیے گئے، جن میں سے بعض میں جیل حکام کو پیش کرنے کا حکم دیا گیا مگر عمل درآمد نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں اب تک کبھی مسترد نہیں ہوئیں، اور بعض کیسز سیاسی سازش کے تحت بنائے گئے ہیں۔ وکیل کا موقف تھا کہ میرٹ پر ضمانت دی جائے۔عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت کی درخواستیں منظور کرلی ہیں۔

            اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سات مقدمات میں عبوری ضمانتیں منظور کرلی ہیں۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے بانی پی ٹی آئی کی چھ اور بشریٰ بی بی کی ایک درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے دونوں رہنماؤں کی درخواستیں پچاس پچاس ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کیں۔مقدمات کی تفصیلات کے مطابق، بانی پی ٹی آئی کے خلاف 9 مئی کے واقعات، آزادی مارچ، اقدام قتل، توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور توشہ خانہ کی جعلی رسیدوں کے مقدمات درج ہیں۔ بشریٰ بی بی کے خلاف بھی توشہ خانہ کی جعلی رسیدوں کا کیس تھانہ کوہسار میں درج ہے۔پراسیکوشن کی جانب سے راجہ نوید حسین کیانی، مظہر بشیر اور طاہر کاظم عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں، اس لیے ان کی ضمانت منظور نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے درخواستیں خارج کرنے کی استدعا کی۔

وکیل سلمان صفدر نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کے خلاف 63 التوا جاری کیے گئے، جن میں سے بعض میں جیل حکام کو پیش کرنے کا حکم دیا گیا مگر عمل درآمد نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں اب تک کبھی مسترد نہیں ہوئیں، اور بعض کیسز سیاسی سازش کے تحت بنائے گئے ہیں۔ وکیل کا موقف تھا کہ میرٹ پر ضمانت دی جائے۔

عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت کی درخواستیں منظور کرلی ہیں۔