ایک معذور شخص کے بارے میں سٹیٹ بتانے کو تیار نہیں، اگر وہ دہشت گرد ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں:جج اسلام آباد ہائیکورٹ کے ریمارکس
اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نے لاپتہ شہری کیس میں سیکریٹری دفاع اور سیکریٹری داخلہ کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا ہے جبکہ سماعت کرتے ہوئے جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے ہیں میں کیوں نہ وزیر اعظم کو طلب کروں کہ انہوں نے فیلڈ آفیسرز کے خلاف کارروائی نہیں کی، ہم توقع کرتے ہیں کہ قانون پر عمل کریں گے ،ایک معذور شخص کے بارے میں اسٹیٹ بتانے کو تیار نہیں، اگر وہ دہشت گرد ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کریں۔انھوں نے یہ ریمارکس پیرکے روزدیے ہیں ۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہری زینب زعیم کے لاپتہ خاوند کے کیس کے فیصلے پر عمل درآمد کی درخواست پر سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری داخلہ کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے زینب زعیم کی درخواست پر کیس کی سماعت کی۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ لاپتہ افراد کے حوا لے س ان کیمرہ بریفنگ دینی ہے یا نہیں؟ فیلڈ آفیسر ملٹری انٹیلیجنس کا یا آئی ایس آئی کا ہوگا جو بریفنگ دے سکتا ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ نے کہا کہ ان کا نمائندہ آکر آپ کو بریفنگ دے سکتا ہے۔ فیلڈ آفیسر آتے نہیں ہیں نا ہی ہمیں ان کے حوالے سے معلوم ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ یہ شہری2013 میں پہلی دفعہ لاپتہ ہوا تھا ابھی 2026 ہے ، ایک آدمی کی ان کیمرہ بریفنگ سمجھنا چاہ رہا ہوں، یہ عدالت قانون کے مطابق چلنا چاہ رہی ہے