عمران اور بشریٰ عدالت پیش ،گواہان کی شہادت مکمل ،کل جرح کا عمل مکمل ہو گا
حرمین شریفین کی حفاظت ہمارے لئے سعادت ،عمران خان کی علیمہ خان سے گفتگو
راولپنڈی (خصوصی رپورٹ)بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کیخلاف توشہ خانہ ٹو کیس کے دو آخری گواہوں دو تفتیشی افسران نے بھی اپنے بیان قلمبند کرا دئیے۔ اڈیالہ جیل میں گزشتہ روز ہونے والی سماعت کے دوران سپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند کے روبرو گواہوں کا بیان بھی ریکارڈ کر لیا گیا، آئندہ سماعت پر جرح کا عمل مکمل کیا جائیگا۔توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت کے دوران نیب افسر محسن ہارون، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایف آئی اے شاہد پرویز کا بیان قلمبند کیا گیا۔دونوں کے بیانات پرکل 24 ستمبر کو وکلاء صفائی جرح کریں گے۔ مقدمہ میں استغاثہ کے گواہان کی شہادت مکمل ہو گئی، مزید کوئی گواہ پیش نہیں کیا جائے گا، مقدمہ میں مجموعی طور 20 گواہان کی شہادت قلمبند کی جا چکی ہے۔سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی ، بشری بی بی کو جیل سے عدالت پیش کیا گیا۔ اس موقع پر بانی کی تینوں بہنیں، بشری ٰبی بی کی بیٹی مہر النساء بھی کمرہ عدالت موجود تھیں، سماعت کے دوران وکلاء صفائی ارشدتبریز، ظہیر عباس جبکہ سپیشل پبلک پراسیکیوٹر ایف آئی اے، ذوالفقار عباس نقوی، عمیر مجید ملک استغاثہ کی جانب سے عدالت پیش ہوئے۔علیمہ خان نے سماعت ختم ہونے کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو کرتے ہوئیکہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ جس نے بات کرنی ہے وہ جیل آئے۔ بیرسٹر گوہر، بیرسٹر سیف اور علی امین گنڈا پور اسٹیبلشمنٹ سے اب کوئی بات نہیں کریں گے،مذاکرات کے بجائے انہوں نے ہماری پارٹی کو مزید دبایا لہذا اب اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ علیمہ خان کا مزید کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے آج چار پیغامات بھیجے ہیں، عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے معاہدہ کی بہت اہمیت ہے۔حرمین شریفین کی حفاظت ہمارے لئے سعادت ہے، پاکستان کو عالمی سطح پر اپنے رابطے تیز اور بحال رکھنے ہوں گے ۔علیمہ خان نے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں ایک گواہ جھوٹا ثابت ہوا ہے لہذا کیس ختم ہونا چاہئے۔ملٹری سیکرٹری نے بھی تمام دستاویزات کو درست قرار دیا،انہوں نے کہا کہ لگتا ایسے ہے اگلی دو تین سماعتوں میں کیس ختم ہو جائے گا ،ہمیں امید ہے اس کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشری ٰبی بی رہا ہو جائیں گے، ہمیں دو تہائی اکثریت ملی تھی ہمارا ووٹ چوری کیا گیا اور چوروں کو حکومت دی گئی، سزا یافتہ لوگوں کو ملک پر مسلط کیا گیا ، 27 ستمبر پشاور کے جلسے میں پوری قوم نکلے، جلسے کی ذمہ داری علی امین گنڈا پور اور جنید اکبر کو سونپی گئی ہے۔