وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایات کے باوجود صوبے میں لاپتہ اور اغوا ہونے والے بچوں کی بڑی تعداد تاحال بازیاب نہیں ہو سکی۔
گزشتہ سوا دو سال کے دوران پنجاب بھر سے لاپتہ یا اغوا ہونے والے 1221 بچے اب تک اپنے والدین سے نہیں مل سکے، جس کے باعث بچوں کے تحفظ اور پولیس کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔دستیاب اعدادوشمار کے مطابق بچوں کی عدم بازیابی کے حوالے سے لاہور پہلے نمبر پر ہے، جہاں 312 بچے تاحال لاپتہ ہیں۔ فیصل آباد میں 87، ملتان میں 76 اور گوجرانوالہ میں 72 بچوں کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔اسی طرح راولپنڈی میں 67، شیخوپورہ میں 51، ساہیوال میں 47، سیالکوٹ میں 36 اور قصور میں 34 بچے تاحال اپنے پیاروں سے دور ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع میں بچوں کی عدم بازیابی کے متعدد مقدمات زیرِ تفتیش ہیں۔لاہور کے مختلف تھانوں میں بھی لاپتہ بچوں کے کیسز سامنے آئے ہیں۔ شاہدرہ کے علاقے میں 16 بچے تاحال بازیاب نہیں ہو سکے، جبکہ چوہنگ اور گرین ٹاؤن میں 12، 12 بچوں کی عدم بازیابی رپورٹ ہوئی ہے۔
بچوں کے لاپتہ ہونے اور اغوا کے واقعات نے متاثرہ خاندانوں کی پریشانی میں اضافہ کر دیا ہے۔ والدین اپنے بچوں کی واپسی کے منتظر ہیں، جبکہ شہریوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایسے مقدمات کی تفتیش تیز کی جائے اور بچوں کی بازیابی کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔عوامی حلقوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا ہے کہ زیرِ التوا مقدمات میں ہونے والی پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے، پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے اور بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائی جائے۔لاپتہ بچوں کی بڑی تعداد تاحال بازیاب نہ ہونے کے باعث اس معاملے پر فوری توجہ کی ضرورت اجاگر ہوئی ہے۔ متاثرہ خاندانوں کو اپنے بچوں سے ملانے کے لیے مربوط کوششیں اور مقدمات کی مؤثر پیروی اہم قرار دی جا رہی ہے۔